انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 113
۱۱۳ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث زندگی کا سارا دارومدار ہو۔پھر ایک طرف اس کی صفائی کا انتظام کیا گیا ہو اور دوسری طرف اس کی مناسب تقسیم کا بھی انتظام کیا گیا ہو۔ہمیں صفات باری کے یہ مخصوص جلوے جس وجود میں نظر آ رہے ہیں قرآن کریم اس کو الارض ( یعنی زمین ) کہتا ہے۔چنانچہ اس حقیقت کا اظہار اس آیہ کریمہ میں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَجَعَلَ خِللَهَا أَنْها وَ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ( النَّمل : ٦٢ ) جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کی تقسیم اور صفائی کا بھی انتظام کیا ہے۔چنانچہ سورج کو کہا( سارے اجرام فلکی انسان کی خدمت پر مامور ہیں ) کہ سمندروں کے پانی کو گرما ؤ اور پھر اس سے بخارات کو اُٹھاؤ اور پھر ہواؤں کو کہا یہ کمزور بخارات ہیں یہ وہ سفر کر نہیں سکتے جو ہم ان سے کروانا چاہتے ہیں اس لئے ان کو اپنے کندھوں پر اُٹھاؤ اور جہاں ہم کہتے ہیں وہاں انہیں لے جاؤ۔پہاڑوں کو کہا کہ جب تک پانی کے باریک ذرے آپس میں ٹکرائیں گے نہیں اس وقت تک پانی کی شکل میں زمین پر نازل نہیں ہو سکتے اس لئے تم ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جاؤ تا کہ اس طرح بارش بر سے اور پہاڑی ندی نالے دریاؤں کی شکل میں بہہ نکلیں اور ان دریاؤں کے ذریعہ سے زمین کی سیرابی اور شادابی کا انتظام ہو۔پھر ان پہاڑوں سے یہ بھی کہا کہ دیکھو بادل تو جب ہم کہیں گے وہ آئیں گے لیکن تم کچھ Store(ذخیرہ) کر لوتا کہ تھوڑے بہت پانی کا سارے سال انتظام ہوتا رہے۔چنانچہ برف کی شکل میں پہاڑوں پر Reservoirs(ذخیرے) قائم کر دیئے جن میں سے تھوڑا بہت پانی سارا سال ہی بہتا رہتا ہے۔پس زمین وہ ہے جس میں پانی ہے ان اجزا کے ساتھ جن پر حیات کا انحصار ہے اور پھر یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں نے اس پانی کی آگے مناسب تقسیم کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔پھر پانی میں کچھ تو لوگوں نے گند ملانے تھے اور کچھ دوسرے گند مل جانے تھے اور Stagnation (کھڑے پانی) کی وجہ سے کیڑے پیدا ہو جانے تھے اور یہ مختلف Germs (جراثیم) ہلاکت کا سبب بن جاتے ہیں اس لئے بارش برسائی جس سے دریا بہہ نکلے اور ان کے تیز بہاؤ کے ساتھ یہ سارے گند بہہ کر سمندر میں جاملے جس سے سمندر کا پانی نا قابل استعمال ہو گیا۔اگر سمندر کا یہ پانی حیات کا ذریعہ ٹھہرتا تو بیماری ہی بیماری ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بہت بڑا احسان فرمایا کہ سورج کی تپش سے سمندر سے نہایت صاف اور مصفا پانی کے بخارات