انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 109
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ 1+9 سورة الاعراف بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الاعراف آیت ۲۶،۲۵ قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُةٌ وَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعُ إِلى حِينٍ قَالَ فِيهَا تَحْيَونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ سال رواں ۲۱ / جولائی کو زمین سے باہر نکل کر انسان کا پہلا قدم چاند پر پڑا اس میں شک نہیں کہ تسخیر عالم کی عظیم جدوجہد میں انسان کا یہ بہت بڑا تاریخی کارنامہ ہے لیکن اس عظیم کارنامہ کے نتیجہ میں مسلمانوں کے بعض طبقوں میں بھی اور میرے خیال میں مذہبی دنیا کے بعض دوسرے حصوں میں بھی کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے ذہنی انتشار پیدا ہوا۔چنانچہ تنزانیہ سے مجھے ایک خط میں یہ اطلاع ملی کہ وہاں ہمارے مبلغ کسی استقبالیہ دعوت میں شریک ہوئے اور اس موقع پر انہوں نے یہ باتیں سنیں کہ انسان کا چاند پر جانا قرآن کریم کے خلاف ہے اور اس قسم کی بات کو قبول کر لینا موجب کفر ہے۔اسی طرح رنگون کے ایک خط میں یہ ذکر تھا کہ وہاں ہمارے مبلغ نے بعض پڑھے لکھے لوگوں حتی کہ بعض علماء کو یہ کہتے سنا کہ اگر چاند پر انسان پہنچ بھی چکا ہو پھر بھی ہمیں اس پر یقین کرنے اور اس پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہے۔غرض اس قسم کے کفر کے فتویٰ دیئے گئے اور عدم علم کی وجہ سے خلاف حقیقت باتوں کا اظہار کیا گیا۔دوسری طرف خود ہمارے پاکستان میں ہمارے بعض علماء نے بڑے اچھے مقالے لکھے اور بعض مجالس میں پڑھے بھی گئے ہیں جن میں سے ایک مکرم محمد یوسف صاحب بنوری کراچی کے رہنے والے ہیں انہوں نے ابھی چند دن ہوئے اوقاف کے سیمینار میں تسخیر کائنات پر ایک بڑا اچھا اور معقول مقالہ پڑھا ہے اور اپنے مقالہ میں بعض قرآنی آیات کے حوالے سے یہ ثابت