انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 107 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 107

1+2 سورة الانعام تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اور میری عبادت، میری زندگی اور میری موت خدا تعالیٰ کے جلال اور بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے وقف ہو اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو قائم کرنا میری زندگی کا مقصد ہو اور پھر فرما یاد بذلِكَ أُمِرْتُ یعنی ان قوتوں کی نشو ونما کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔گویا اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکی وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آنحضرت کو جسمانی اور علمی اور اخلاقی اور روحانی قوتیں عطا ہوئی تھیں وہ آپ کی ذات میں اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق دی تھی کہ آپ اپنی خداداد قوتوں کی نشونما کو ان کے کمال تک پہنچا دیں۔چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی معنیٰ میں اول المسلمین ہونا بنی نوع انسان کے لئے اسوہ حسنہ کے مترادف ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عبادات کیسے کریں۔ہمیں اس کی طاقت نہیں ہے میں کہتا ہوں تمہیں کسی نے یہ کب کہا ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی اپنی زندگی گزارو۔وہ طاقتیں تم میں ہیں ہی نہیں۔اُن طاقتوں کی تم نشوونما تمام کر ہی نہیں سکتے لیکن اس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر چہ یہ تو صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ کی طاقتیں عطا فرمائی تھیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو قو تیں اور طاقتیں اور استعدادیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی تھیں آپ نے اپنی پوری توجہ اور انہماک اور ہر قسم کی قربانی کر کے اور ایثار دکھا کر اُن طاقتوں اور استعدادوں کو اُن کے کمال تک پہنچا دیا تھا۔اس لئے ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اُس اُسوہ نبوی کے مطابق اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی اپنی طاقتوں اور استعدادوں کو ان کے کمال تک پہنچائے۔گواؤلُ المسلمین کے اس معنی میں آپ ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہیں۔(خطابات ناصر جلد اول صفحه ۵۷۸،۵۷۷)