انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 106
1+4 سورة الانعام تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث جو وحی الہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری اور نوع انسانی کی بھلائی کے لئے نازل ہوئی میں صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں اور تم ؟ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ (ال عمران : ۳۲) اگر تمہارے دل میں اللہ کی جو رب العالمین ہے، محبت ہے اور چاہتے ہو کہ وہ بھی تم سے پیار کرے فاتبعونی میری اتباع کرو۔کس چیز میں اتباع کرو؟ وہی جو دوسری جگہ ہے اِن اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى اِلی میں صرف اس وحی الہی کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر اللہ نے نازل کی ہے اور تم میری اتباع کرتے ہوئے صرف اس وحی کی اتباع کرو جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کی اور اس کے علاوہ ہلاکت ہے۔اني أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (یونس:۱۲) یاد رکھو جو اس وحی کو چھوڑتا وہ اپنے لئے ہلاکت ، ناکامی ، بدامنی ،خوف ، بے اطمینانی کے سامان پیدا کرتا ہے اس زندگی میں بھی اور آخری زندگی میں ، اُخروی زندگی میں بھی۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۳۱۳، ۳۱۴) دوسری جگہ اوّل المسلمین ایک دوسرے معنی میں استعمال فرمایا ہے۔اس معنی میں آپ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔اللہ تعالیٰ سورہ انعام میں فرماتا ہے کہ اے رسول ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی کی یعنی اُس نے مجھے وہ راہ بتائی ہے جس پر چل کر خدا داد قوتوں اور استعدادوں کو کامل نشو و نما ملتی ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمونہ بیان کر کے بتایا کہ اگر قوتوں کی صحیح نشوونما کرنا مقصود ہو تو شرک کا کوئی شائبہ انسانی زندگی، انسانی کوشش اور انسانی محنت میں نہیں ہونا چاہیے۔ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کچھ تو خدا کی طرف جھک جائے اور کچھ غیر اللہ کی طرف جھک جائے تو نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول ! تو کہہ دے! اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمینَ۔میری نماز اور میری دعائیں جن سے میں اللہ تعالیٰ سے قوت حاصل کرتا اور طاقت پاتا ہوں اور میری عبادتیں اور میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے جلال کو ظاہر کرنے والی اور اس کے بندوں کو آرام پہنچانے کے لئے ہے۔لِلَّهِ رَبِّ الْعلمين اس میں اللہ کے لفظ میں خدا کے جلال کو ظاہر کرنے کی طرف اشارہ ہے اور رب العالمین میں بندوں کی خدمت کی طرف اشارہ ہے۔یہاں یہی نہیں فرما یا لا شَرِيكَ لَه بلکہ یہ بھی فرمایا وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ مجھے اس چیز کا حکم دیا گیا ہے کہ جو صراط مستقیم بنائی گئی ہے۔اُس پر چلوں۔ملت ابراھیم کو اختیار کروں اور میری نماز