انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 105 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 105

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۰۵ سورة الانعام کے طور پر رکھی گئی وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی باہمی قربانی تھی کہ ایک رؤیا میں دکھایا گیا کہ ایک عظیم قربانی لینا چاہتا ہوں اور تیرا امتحان یہ ہے کہ آیا اگلی نسل کو اس رنگ میں تربیت دی ہے کہ وہ اس قربانی کے بوجھ کو بشاشت کے ساتھ برداشت کرے چنانچہ بعض کے نزدیک وہ ظاہری طور پر خواب پوری کرنے لگے اور بعض کے نزدیک وہ محض تعبیر اً پوری ہوئی۔بہر حال جو اس کی تعبیر تھی وہ یہی تھی کہ خدا کی راہ میں بظاہر موت کو قبول کرنا اور خدا کی راہ میں بظاہر موت میں اپنے پیارے بچے کو پھینک دینا۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ میں یہ قربانی لینا چاہتا ہوں۔تیری آزمائش ہو چکی اور تو ہماری رحمتوں کا وارث بن گیا اب ایک آزمائش اور ہے کہ آیا تیری تربیت صحیح ہے یا نہیں۔حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی دے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام میری راہ میں قربانی دیں ورنہ اگر حضرت اسمعیل علیہ السلام کا پیچ میں حصہ نہ ہوتا تو زبر دستی پکڑ کے ذبح کر دیتے لیکن انہوں نے اس طرح نہیں کیا بلکہ قرآن کریم نے بتایا ہے کہ انہوں نے کہا کہ اس طرح میں نے خواب دیکھی ہے آیا تو یہ قربانی دینے کے لئے راضی ہے؟ تو ان کا فوری طور پر بے تکلف جواب یہ تھا اِفعَلُ مَا تُؤْمَرُ (الصفت : ۱۰۳) اللہ کا جو حکم ہے وہ کر و سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصُّبِرِينَ ( الصفت : (۱۰۳) خدا کے فضل اور اس کی توفیق سے تو مجھے صابر نو جوانوں میں پائے گا۔خطبات ناصر جلد دهم صفحه ۱۳۱ تا ۱۳۴) اسی لئے دوسری جگہ یہ بھی فرمایا تھا کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ العلمين که کامل اطاعت کرنی ہے۔نماز ہے۔دوسری قربانیاں ہیں۔زندگی کا ہر پہلو ہے۔موت کی ہر شکل ہے۔یہ اللہ رب العلمین کے لئے ہے یعنی میری ہر حرکت اور میرا ہر سکون اس لئے ہے کہ میرا تعلق ربوبیت رب العلمین کے ساتھ قائم اور پختہ رہے کیونکہ اگر وہ تعلق کٹ گیا تو پھر میں ہدایت نہیں پاسکتا اس کی طرف۔لا شريك له اس کا کوئی شریک نہیں۔توحید خالص پر میں قائم ہوں اور مجھے اسی امر کا حکم دیا گیا ہے اور میں مقدور بھر اطاعت کرتا ہوں۔یہ عملی نمونہ ہے میرا۔میرے پیچھے چلو۔کہنے والا تو ایک ہی تھا، میرے پیچھے چلو، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ کے منہ سے آپ کی حقیقت خدا تعالیٰ نے یہ بیان کی إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (يونس:١٦)