انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 103

تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۱۰۳ سورة الانعام پس یہ قربانیاں ایک یاد میں دی جاتی ہیں اور ایک علامت کے طور پر رکھی گئی ہیں جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو ہمیں قربانیوں کے تین نمونے نظر آتے ہیں۔پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا نمونہ ہے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کے دشمنوں کا دستور رہا ہے جب آپ نے اپنی قوم کو خدائے واحد و یگانہ کی طرف بلایا اور بتوں کی بے بضاعتی اور بے بسی کی طرف توجہ دلا کر انہیں بتوں سے چھڑانے کی کوشش کی تو وہ ناراض ہو گئے کہ ہمارے باپ دادا کے دین میں رخنہ ڈالتا ہے اور ہمارے ( فاسد ) عقائد کو فاسد کہتا ہے اس کا کوئی علاج ہونا چاہیے۔انہوں نے اپنے فاسدانہ خیالات میں یہ سمجھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جلانے سے، انہیں آگ میں ڈال دینے سے اپنے بتوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ انہوں نے کہا حَرِّقُوهُ وَ انْصُرُوا الهتكم (الانبیاء : ۶۹) حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اپنے بتوں کی مدد کرو تو اپنے معبود کی مددکا یہ نظریہ ان اقوام میں ہوتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا۔قرآن کریم نے بھی اللہ کی مدد کرنے کا ذکر کیا ہے لیکن تمام علمائے امت اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالی کی مدد کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کی مدد کی جائے وغیرہ۔ان سے ہمدردی کی جائے۔انسان ان کے کام آئے۔بہر حال یہ تو اسلام یا الہی جماعتوں کا نظریہ ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کا نظریہ یہ تھا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اپنے بتوں کی مدد کرو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس امتحان کو جو ان کی زندگی میں بڑا سخت تھا ( نیز دوسرے ابتلاؤں کو بھی ) اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کی رضا کے حصول کے لئے بشاشت کے ساتھ اور سکون قلب اور سینے کی ٹھنڈک کے ساتھ برداشت کیا اور اس یقین کے ساتھ برداشت کیا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ ہو سلامت اور کامیاب وہی رہا کرتا ہے۔چنانچہ جب آپ کے دشمنوں نے آپ کو آگ میں ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو کہا کہ بردا وسلبًا (الانبیاء: ۷۰) یعنی حکم ہوا کہ یہ آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے احساسات میں دکھ کی آگ نہ پیدا کرے بلکہ خوشی اور سکینت اور بشاشت کی ٹھنڈک پیدا کرے۔تو بردا“ کا معجزہ احساس سے تعلق رکھتا ہے اور سلما “ کا معجزہ جسم سے تعلق رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ غیر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے د ورور 66