انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 102
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۱۰۲ سورة الانعام نفس میں بھی یہ پایا کہ اس کے علاوہ کوئی ہستی میری ربوبیت نہیں کر سکتی اور دنیا کی ہر شے کا جب میں نے مشاہدہ کیا، میں نے یہی مشاہدہ کیا کہ رب العلمین کی بجائے رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ کے علاوہ اور کوئی رب نہیں جو ان کی درجہ بدرجہ ترقیوں کے سامان پیدا کر کے ان کو کمال تک پہنچانے والا ہو۔تو یہ تین باتیں ہمیں ایک خاص مقام تک لے گئیں۔جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے۔يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسلام اس کی زندگی میں ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ اسلام قبول کرنے میں انقباض صدر نہیں ہوتا بلکہ انشراح صدر ہوتا ہے، اس کو محفوظ کیا جاتا ہے ایسے ابتلاؤں سے جس کے نتیجے میں انقباض پیدا ہو جاتا ہے۔چونکہ انقباض نہیں ہوتا، وہ اپنی مرضی اور رضا سے اعلان کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوتا ہوں اور ساری ذمہ داریاں قبول کرتا ہوں اور زبان سے صرف اقرار نہیں ہوتا بلکہ اس کا عقیدہ جو ہے وہ بھی اور اس کے اعمال جو ہیں وہ بھی ایسے ہیں کہ ان میں بہترین حسن پایا جاتا ہے۔احسن کے معنی عربی میں ہیں بہترین طریقے پر کسی چیز کو کرنا۔تو وہ صیح عقیدہ کو پہچانتا ہے اور جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس قسم کے اعمال کو پسند کرتا ہے اور کون سے اعمال اسے پیارے ہیں، پھر خالی بے دلی سے وہ نہیں کرتا ، بے رغبتی سے وہ نہیں کرتا بلکہ پوری کوشش سے جس قدر حسن اور نور اپنے اعمال میں پیدا کر سکتا ہے کوشش کرتا ہے کہ وہ حسن اور نور پیدا ہو جائے اور اس کی زندگی ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ ہے اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ اُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۴۵ تا ۱۴۸) آج قربانیوں کی عید ہے اور اس عید پر لاکھوں شاید کروڑوں جانور اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کئے جاتے ہیں۔اگر ہم یہ سمجھیں کہ اس عید پر بکری، بھیڑ ، دنبے، گائے یا اونٹ کی قربانی دے کر ہم اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہیں تو ہم نے بہت گھاٹے کا سودا کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان قربانیوں کے گوشت خدا تک نہیں پہنچتے۔اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اسے کسی چیز کی حاجت نہیں گوشت جس کا کھانے کے ساتھ تعلق ، جس کا زبان کی لذت کے ساتھ تعلق ، جس کا اس خطرہ کے ساتھ تعلق ہے کہ اگر جسم کو غذا نہ ملے تو کمزوری پیدا ہو جائے گی۔اس کی اس ابدی اور ساری قوتوں والے خدا کو کیا ضرورت ہے۔