انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 101

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث 1+1 سورة الانعام کی رضا اور اس کی خوشنودی اور اس کے قرب کو حاصل کرنے کی ، اسی طرح جب ہر لمحہ زندگی میں شیطان میرے سامنے اخلاقی اور روحانی موت لے کر آتا ہے۔تو میں اس شیطانی موت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے کہتا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کا بندہ ہوں، تیر اوار مجھ پر کامیاب نہیں ہوسکتا۔اور اس طرح ممَاتِي لِلہ ہر لمحہ زندگی میں موت کے سامنے آنے پر میر ا رد عمل جو ہے یہ ہے کہ اخلاقی اور روحانی موت سے بچنے کی کوشش وہ اللہ خدا کی رضا کے لئے اس کے قرب کے حصول کے لئے اور انسان کے نفس کے دشمن اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو بہکانے والی جو طاقتیں ہیں اس دنیا میں، شیطانی اثر اور نفوذ کے ماتحت کرنے والی ، ان کو نا کام کرنے کے لئے ہے۔رب العلمین اور یہ میں اس لئے کرتا ہوں کہ مجھے اس یقین پر قائم کیا گیا ہے کہ عالمین کی ربوبیت صرف اللہ تعالیٰ کر سکتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان کی قوتیں اور صلاحیتیں اور استعدادیں بھی اور ہر دوسری شے کی استعداد بھی درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے اپنے کمال کو پہنچتی ہے۔لا شريك له رب ایک ہی ہے جس سے میں نے ربوبیت حاصل کرنی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس چیز کا حکم دیا گیا ہے۔وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ یہ فقرہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جب آیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ نوع انسانی میں سب سے بڑا مسلمان میں ہوں۔اسلام کو سمجھنے والا ، عرفانِ الہی رکھنے والا ، خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت رکھنے والا، اسلام کے لئے زندگی اور اسلام کے لئے موت ہر دو کیفیات میں وقف زندگی اور رد عمل جو موت کا ہے اس میں اپنے آپ کو للہی وقف کرنے والا ، خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس سے قرب کو پانے کے لئے لیکن جب ہر دوسرے آدمی کے متعلق اس کو استعمال کیا جائے تو اوّلُ الْمُسْلِمِینَ کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے جو استعدادیں دی ہیں ان کی کمال نشو و نما کے بعد جو میرا مقامِ عروج ہے اس تک پہنچنے کی کوشش کرنے والا۔ایک مجاہدہ ہے، ایک ہجرت ہے (اس وقت وہ میرا مضمون نہیں ہے وہ اشارے ہیں ) مجاہدہ ہے ہر لمحہ جو زندگی کا ہے اس میں بھی اور مجاہدہ ہے ہر وہ موت نئی سے نئی جو انسان کے سامنے آتی ہے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے انسان کہتا ہے کہ میں تیرا نہیں، میں خدا کا ہوں بندہ۔اس واسطے تیرا اثر مجھ پر نہیں ہوگا۔اس واسطے تیرا اثر مجھ پر نہیں ہوگا۔تو وَ مَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔قُلْ آغَيْرَ اللهِ آبغِی رَبًّا کیا اللہ کے علاوہ میں کسی اور کو رب تسلیم کروں حالانکہ میں نے اپنے