انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 100
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الانعام بیسیوں بار شاید سینکڑوں بار انسانی زندگی میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کے یہ لمحات کس طرح گزارنے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان ہے وہ یہ کہتا ہے کہ میری زندگی کی ہر کروٹ، اور ہر حرکت جو اس میں پیدا ہوتی ہے خدا کے لئے ہے اور یہ محض زندگی ہی نہیں ، یہ ایک مرکب ہے، زندگی اور موت کا اور یہ جو مرکب ہے اس کو بیان کرنے کے لئے ، اس کو واضح کرنے کے لئے میں انسانی جسم کی ایک مثال دیتا ہوں یعنی زندگی کا ہر لمحہ، جس طرح زندگی سنوار نے کی کوشش کا نام ہے زندگی کا ہرلمحہ اسی طرح موت سے بچ جانے یا بچنے کی کوشش کا نام ہے۔سائنس دانوں نے تحقیق کی ہے کہ جس وقت انسانی دماغ میری اس انگلی کو حکم دیتا ہے کہ ہل، اس میں حرکت آ جاتی ہے۔تو یہ ایک بجلی کی کرنٹ ہے جو نروز (Nerves) کے ذریعے میری انگلی تک پہنچتا ہے یہ حکم ، وہ کرنٹ دماغ سے حکم لے کر جب پہنچتی ہے انگلی تک تب یہ حرکت پیدا ہوتی ہے اور یہ حرکت نروز (Nerves) کے ذریعے چلتی ہے اور نرو ایک مسلسل دھاگہ نہیں جو ٹوٹا ہوا نہ ہو بلکہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں نروز کے جن کے درمیان فاصلہ ہے بڑا خفیف سا فاصلہ لیکن فاصلہ ہے اور یہاں سے یہ کرنٹ بجلی کی جمپ (Jump) کر کے گزر نہیں سکتی۔عجیب ہے خدا کا نظام جس وقت نرو (Nerve) حکم لے کے اس مقام پر پہنچتا ہے تو وہاں ایک پل بن جاتا ہے، درمیان میں ایک کیمیکل(Chemical) آ جاتا ہے جو دونروز (Nerves) کے درمیان پل کا کام دیتا ہے جس پر سے گزر کے حکم آگے چلا جاتا ہے اور اس انگلی تک پہنچنے کے لئے اس حکم کو سینکڑوں، شاید ہزاروں پلوں کی ضرورت ہو اس قسم کے جو کیمیاوی پل ہیں جو بنتے ہیں اور کرنٹ کو آگے لے جاتے ہیں اور انہوں نے یہ تحقیق کر کے معلوم کیا کہ جس وقت وہ حکم گزرجاتا ہے اس پل پر سے، اسی وقت وہ پل ٹوٹ جاتا ہے اور پھر دونوں نروز کے درمیان ایک فاصلہ آجاتا ہے اور اگر نہ ٹوٹے تو اس وقت موت واقع ہو جاتی ہے۔تو ایک معمولی سا حکم دماغ سے انگلی تک پہنچانے کے لئے، انسان ہزاروں موتوں میں سے گزرتا ہزاروں موتوں سے بچایا جاتا ہے۔تو مَحْيَايَ وَمَمَاتِی میری زندگی اور میری موت یہ دونوں جسمانی لحاظ سے بھی ، اخلاق اور روحانی لحاظ سے بھی ، موت اور زندگی کے ایک مرکب کی شکل میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک مومن کہتا ہے کہ جس طرح میری زندگی کا ہر لحہ ، جب ایک نئی حرکت اس میں پیدا ہو، ایک نئی کوشش ہے اللہ تعالیٰ