انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 99 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 99

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۹۹ سورة الانعام وقت ہم ان رشتوں کو رشتہ سمجھیں۔جب خدا تعالیٰ کہے کہ ان تعلقات کو قائم کرو تو اس وقت ہم ان تعلقات کو قائم کرنے والے ہوں۔ہم خدا تعالیٰ کے حکم اور ہدایت کے مطابق بنی نوع انسان کی اس رنگ میں خدمت کرنے والے ہوں کہ اس کے بندے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو سمجھنے لگیں اور دوسری طرف اس کے بندوں کی دنیوی یا نفسانی تکالیف کو دور کریں جہاں تک نفسانی تکالیف کا تعلق ہے انسان کی ہر تکلیف اس کے نفس سے شروع ہوتی ہے اِذَا مَرِضْتُ “ (الشعراء: ۸۱) والی حالت ہوتی ہے۔ہر دکھ اپنے نفس کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور پھر جب خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو جائے تو اس وقت وہ مریض ٹھیک اور وہ دکھ دُور ہو جاتا ہے۔66 خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۱۹ تا ۸۲۲) پہلے کی آیت میں جو میں نے نہیں پڑھی ایک ٹکڑا یہ ہے قُلْ إِنَّنِي هَدِينِي رَبِّي إِلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ میرے رب نے صراط مستقیم کی طرف میری ہدایت کر دی اور انشراح صدر مجھے پیدا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس امر کا حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبردار ہوں۔تو کہہ کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو رب بناؤں یا رب سمجھوں؟ حالانکہ وہ ہر ایک چیز کی پرورش کرنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔اس آیت کا سچا مصداق ہو تب مسلمان کہلائے گا۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي تدبیریں دو قسم کی ہیں ایک دعا کے ساتھ تدبیر ، دوسرے مادی دنیا کی تدبیریں ہیں عمل ہے، منصوبے بنائے ہیں، ان پر چلنا ہے، ماحول ایسا پیدا کرنا ہے، گھر میں دین کی باتیں کرنی ہیں ، بچوں کی ہدایت کے لئے کوشش کرنی ہے، ان کے دل میں خدا اور رسول کا پیار پیدا کرنا ہے۔ان کے کان میں دین کی باتیں ڈالنی ہیں، قرآن کریم سننا ہے ان سے، پڑھانا ہے ان کو وغیرہ وغیرہ ہزار قسم کی تدبیر کی جاتی ہے۔پہلی تدبیر تو صلاتی ہے کہ میری دعا جو ہے وہ ساری کی ساری اللہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے اور اس کے قرب کو پانے کے لئے ہے اور میری کوشش اور تد بیر بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔(وَمَحْيَای ( انسانی زندگی کسی ایک ٹھوس چھوٹی سی چیز کا نام نہیں۔ستر سالہ زندگی میں بلوغت کے بعد سترہ ، اٹھارہ سال کے بعد چلو ہمیں سال نکال دو پچاس سال کی عملی زندگی میں دن میں