انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 98
تغییر حضرت خلیفة امسح الثالث ۹۸ سورة الانعام تعلیم دی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و معرفت پر مشتمل تعلیم کے مقابلے میں بڑی ناقص ہے اس لحاظ سے بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بہت بلند ہے۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ کہلوایا کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت کے نتیجہ میں ایک طرف عظمت و جلال الہی کو قائم کروں اور دوسری طرف بنی نوع انسان کی خدمت کرتا رہوں اس وقت دنیا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدسہ کے ہر دو پہلوؤں کے مظاہرے اور ہر دو جلوؤں کی محتاج ہے۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا تعلق ہے دنیا اس سے ناواقف اور نا آشنا ہے اور وہ چیز جو اس الہی عظمت و جلال کے مقابلہ میں کروڑواں حصہ بھی نہیں ہے بسا اوقات انسان اپنا سر اس کے سامنے جھکا دیتا ہے حالانکہ ہر وہ سر جو خدا تعالیٰ کے آستانہ کے علاوہ کسی اور جگہ جھکتا ہے وہ ہمیں بتا رہا ہوتا ہے کہ دراصل دنیا کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کی ضرورت ہے لیکن لوگ آپ کے مقام کو پہچانتے اور اپنی ضرورت کو سمجھتے نہیں۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اسلام میں انسان کے جو حقوق قائم کئے ہیں اُن سے بڑی بے اعتنائی برتی جارہی ہے انسانی حقوق ادا نہیں ہو رہے ہیں۔دراصل حقوق اور فرائض پہلو بہ پہلو چلتے ہیں اگر ہر انسان اپنے فرض کو پورا کرے تو ہر دوسرے انسان کے حقوق ادا ہو جائیں گے۔اسی لئے قرآن کریم نے حقوق اور فرائض کو متوازی رکھا ہے۔ہر ایک کو فرمایا ہے کہ تم پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں اور تم میں سے ہر ایک کے کچھ حقوق بھی قائم کئے گئے ہیں جو تمہارا فرض ہے اس کو تم ادا کرو جو تمہارا حق ہے اس کے ملنے کے سامان پیدا ہو جا ئیں گے۔۔۔۔۔۔۔بهر حال قُلْ اِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ۱۶۳) کے مطابق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اُسوہ حسنہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی پر ایمان لانے کے بعد اس اُسوہ پر عمل کرنا ہمارے لئے بدرجہ اولیٰ ضروری ہے یعنی ایک طرف ہم تو حید خالص پر قائم ہوں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہمارا کسی اور سے نہ کوئی رشتہ باقی رہے نہ کسی اور سے کوئی محبت باقی رہے۔نہ کسی اور سے کوئی تعلق باقی رہے۔صرف اللہ تعالیٰ پر ہمارا تو کل ہو۔دنیا کے جتنے رشتے ہیں دنیا کے جتنے تعلقات ہیں وہ خدا میں ہو کر اس کی رضا کے لئے اور اس کی ہدایت کے مطابق ہوں۔یہ دنیا اگر چہ تعلقات پر قائم ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کہے کہ ان رشتوں کو سمجھو تو اس