انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 92 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 92

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۹۲ سورة الانعام کیونکہ یہ کتاب (قرآن) ہر قوم کے لئے تھی اس لئے وہ ان سب قوموں کا مشتر کہ روحانی مائدہ تھا۔اور ان سب نبیوں کی قوم نے اس سے فیوض حاصل کرنے تھے اس لئے ان سب کو فکر تھی کہ کہیں ان کی قوم اس ابدی آتشی شریعت سے محروم نہ ہو جائے۔اور مور دغضب الہی نہ بن جائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِتُنْذِرَ أَمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا یعنی تیرے اوپر یہ فضل اس لیے کیا گیا ہے اور یہ کتاب مبارک اس لیے اُتاری گئی ہے کہ تاتو نہ صرف مکہ اور اہلِ عرب بلکہ وَمَنْ حَوْلَهَا تمام ان آبادیوں میں رہنے والی اقوام کو رائے جو عرب کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں۔بشارت اور انذار دونوں ہی پہلو بہ پہلو چلتے ہیں کبھی خدا تعالیٰ ان دونوں چیزوں کو کھول کر بیان کر دیتا ہے اور کبھی ایک کو بیان کر دیتا ہے اور دوسری انڈرسٹڈ(Under Stood) ہوتی ہے۔یعنی سمجھا جاتا ہے کہ یہ بھی یہاں مذکور ہے۔اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرمایا کہ یہ کتاب جو مبارک بھی ہے اور مصدق بھی ہے اس لئے تجھ پر نازل کی گئی ہے کہ تو تمام اقوامِ عالم کو خدائے واحد و یگانہ اور قادر وتوانا کی طرف پکارے اور ان کو دعوت دے کہ اس پاک صحیفہ کو تسلیم کرو جس کے متعلق پیشگوئیاں تمہاری کتاب میں بھی کی گئی تھیں اور اس پر ایمان لاؤ تا کہ تم تمام اُن برکات سے حصہ لو جو اس کی اتباع کے نتیجہ میں تمہیں مل سکتی ہیں لیکن اپنی کتب کی پوری اتباع کے باوجود تمہیں نہیں مل سکتیں۔ام القری سے میں نے عرب مراد لی ہے اس لئے کہ ہمارے عام محاورہ میں بھی جب کبھی ملک کے دارالخلافہ کا نام لیتے ہیں تو اس سے مراد وہاں کی قوم، وہاں کی حکومت اور وہاں کے رہنے والے شہری ہوتے ہیں۔لغوی معنی بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔کیونکہ مفردات راغب میں لکھا ہے کہ مکہ کو اُم القری اس لئے کہتے ہیں کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو زمین کو بچھایا تو اس کا مرکزی نقطہ مکہ تھا اور زمین کا وجود اس نقطہ مرکزی کے گرد ظہور پذیر ہوا۔ہمیں لفظی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ، مجازی طور پر ہم اس کے بڑے اچھے اور صحیح معنی بھی کر سکتے ہیں۔اور وہی ہمیں کرنے چاہئیں بہر حال یہ تخیل پہلے سے موجود تھا کہ ملکہ دنیا کے لیے ایک مرکزی نقطہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ام القری کے لفظ سے اللہ تعالیٰ ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہم نے مکہ کو دنیا کے لئے مرکزی نقطہ بنا دیا ہے اس لیے کہ اتم کے معنی میں وہ چیز جو دوسری چیز کے لئے بطور اصل کے ہو ، اس کے وجود، اس کی