انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 90
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۹۰ لا سورة البقرة ۱۵ وَ إِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِينِهِمْ ، قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ اللَّهُ يَسْتَهْزِئَ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ أُولبِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوا الصَّللَةَ بِالْهُدى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ۔قرآن کریم نے دعوی کیا ہے کہ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ یہ قرآن ایک کامل اور مکمل شریعت ہے اور اس دعوی کے دلائل قرآن کریم نے یہ دیئے کہ لَا رَيْبَ فِيهِ - ریب کے چار معنی جو یہاں چسپاں ہوتے ہیں ان کی رو سے یہاں ہمارے سامنے چار دلائل بیان کئے گئے ہیں اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ واقعہ میں یہ قرآن، یہ کتاب ہر لحاظ سے مکمل کامل اور اکمل اور اتم ہے۔ریب کے ایک معنی کی رو سے قرآن کریم کی تعریف یہ نکلتی ہے کہ انسان کی روحانی اور جسمانی اور معاشرتی اور اخلاقی اور اقتصادی اور سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے والی صرف یہی ایک کامل کتاب ہے اور یہی ایک کامل کتاب ہے جو فطرت انسانی کے سب حقیقی تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔کیونکہ یہ اپنے ذاتی کمالات اور فضائل اور بے نظیر تعلیمات کے ساتھ اپنی ضرورت اور صداقت کو ثابت کرتی ہے۔اگر میں اس دلیل کو پھر ایک دعوی قرار دے کر اس کے دلائل بیان کرنے لگوں تو اس ایک دلیل پر ہی بڑا وقت خرچ ہو جاتا ہے قرآن کریم کو ایک حد تک سمجھنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کے دلائل اور فضائل اور بے نظیر تعلیمات اس قسم کی ہیں کہ جو تمام پہلی کتب پر اس کو افضل ثابت کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب بنی اسرائیل کی الہامی کتب کے متعلق یہ سوال کیا گیا کہ ان کے ہوتے ہوئے قرآن کریم کی کیا ضرورت تھی ؟ تو آپ نے یہ جواب دیا کہ سارے قرآن کریم کا نام نہ لو وہ تو بہت وسیع کتاب ہے بڑے علوم اس کے اندر پائے جاتے ہیں۔اس کے شروع میں سورۃ فاتحہ ہے اور سورۃ فاتحہ میں جو معارف اور حقانی دلائل بیان ہوئے ہیں ان معارف اور دلائل کے مقابلہ پر اپنی تمام روحانی کتب سے اگر تم وہ دلائل اور معارف نکال کر دکھا دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہاری کتابیں قرآن کریم کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔اس دعوت مقابلہ پر ایک لمبا زمانہ گذر چکا ہے اور کیتھولک ازم میں کئی پوپ یکے بعد دیگرے پیدا ہوئے اور کیتھولک چرچ کی سر براہی