انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 91 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 91

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۹۱ سورة البقرة انہیں حاصل ہوئی۔اسی طرح دوسرے فرقے تھے عیسائیوں کے ان میں سے کسی ایک کے سر براہ کو بھی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ سورہ فاتحہ کے مقابلہ میں اپنی کتب سماوی سے اس قسم کے دلائل نکال کر پیش کر سکے۔جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ تھا کہ ہم اس سورۃ سے نکال کر تمہارے سامنے رکھیں گے۔پس لا رَيْبَ فِيهِ کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ کتاب جو اپنے ذاتی کمالات اور فضائل اور بے نظیر تعلیمات کے ساتھ اپنی ضرورت اور صداقت کو ثابت کر سکتی ہے اور جب آپ سے سوال کیا گیا کہ قرآن کریم کی ضرورت کیا ہے تو اس کا جو جواب دیا گیا اور اس جواب میں جس دعوت فیصلہ کی طرف بلایا گیا اس کو آج تک عیسائی فرقوں کے سر براہوں نے قبول نہیں کیا اور اس سے واضح۔ثابت ہوا کہ وہ سورہ فاتحہ کے مضامین کے مقابلہ میں اپنی کتب سماوی کے مضامین کو پیش نہیں کر سکتے۔طور پر الكتب كامل کتاب ہونے کی دوسری دلیل لا رَيْبَ فِیهِ میں اللہ تعالیٰ نے یہ دی ہے کہ قرآنی تعلیم انسان کو ظن اور گمان کے بے آب و گیاہ ویرانوں سے اٹھا کر دلائل اور آیات بینات کے ساتھ یقین کی رفعتوں تک پہنچاتی ہے اور یہ خوبی ہمیشہ اس میں قائم رہے گی۔کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے محفوظ کیا ہوا ہے۔ریب کے ایک معنی کے لحاظ سے یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ یہ کتاب خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہے۔شیطانی دجل اس میں راہ نہیں پاسکتا۔اس لئے اس کا جو اثر انسان کی روح پر آج پڑ رہا ہے وہی اثر اس کا قیامت تک انسان کی روح پر پڑتا چلا جائے گا۔اس لئے یہ الکتب ایک کامل کتاب ہے۔لاریب فیہ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کوئی ایسی ہدایت اور صداقت جو ایک کامل کتاب میں ہونی چاہیے وہ اس سے باہر نہیں رہی اس کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متعدد مقامات پر غیر ادیان کو فیصلہ کی طرف بلایا ہے۔مثلاً آپ نے فرمایا کہ ہستی باری تعالیٰ کے متعلق کوئی ایسی سچی اور حقیقی دلیل تم اپنی کتابوں سے نکال کر دکھا دو جو میں قرآن کریم سے نکال کر نہ دکھا سکوں۔پس ہر وہ صداقت جس کا کوئی دوسری کتاب دعوی کر سکتی ہے وہ اس کے اندر پائی جاتی ہے اور بہت سی ایسی صداقتیں بھی اس میں پائی جاتی ہیں جو دوسری کتابوں میں نہیں پائی جاتیں اس لئے یہ کتاب ایک کامل کتاب ہے۔