انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 87
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۸۷ سورة الفاتحة ہوئے ہیں اس کے ارد گر دلوگ کھا رہے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ میں تو مصیبت میں پھنسا ہوں کھا ہی کچھ نہیں سکتا ہضم نہیں ہوتا بیمار ہو جاتا ہوں جب بھی کوئی ثقیل چیز کھالوں پر ہیزی کھانا کھا رہے ہیں لاکھوں روپیہ تجوری میں ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے جسم میں، جلد میں ایسی بیماری پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اچھا کپڑا پہن نہیں سکتے اب وہ دھوتی پہنی ہوئی ہے پھر رہے ہیں پیسہ بڑا ہے دل کرتا ہے کہ پانچ سو روپیہ گز والا کپڑا خرید کے سوٹ بنائیں لیکن وہ پہن ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگئے ہیں ہزاروں مثالیں اس قسم کی دی جا سکتی ہیں بعض کو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ پکڑ لیتا ہے بعض کو اُخروی زندگی میں پکڑ لیتا ہے بعض کو میں اس لئے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تو مالک ہے کسی کو معاف کر دے تو یہ بھی اس کی شان میں ہے اس کی صفات کی شان کے عین مطابق ہوگا لیکن بعض کے متعلق یقیناً اس نے کہا ہے کہ میں گرفت کروں گا اس واسطے انسان کو مطمئن نہیں رہنا چاہیے تو یہاں یہ فرمایا کہ ہر چیز کے حصول کے لئے ایک سیدھی راہ ہے یا ایک سے زائد بھی بعض دفعہ ہو سکتی ہیں اگر زیادہ وسعت والا مضمون ہمارے ذہن میں ہو مثلاً قرب الہی کے ایک سے زائد رستے ہیں مثلاً جنت کے سات دروازے ہیں جن کا مطلب ہے سات راہیں جنت کی طرف جارہی ہیں لیکن اس دنیا میں عام طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اچھے مقاصد کے حصول کے لئے ایک سیدھی راہ ہے اس راہ پر اگر انسان چلے تو اسے یہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ صِرَاطَ الَّذِینَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ہر سیدھی راہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا انعام اس کا منتظر ہوتا ہے اگر وہ سیدھی راہ پر نہیں چلتا تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اس کا انتظار کر رہی ہو کیونکہ مغفرت کے اوپر انسان کی تو کوئی اجارہ داری نہیں ہے نالیکن ہوسکتا ہے کہ اس کا عذاب، اس کا قہر، اس کا غضب، اس کا انتظار کر رہا ہو اس کو وعدہ یہ نہیں ہے کہ تمہیں انعام ملے گا انعام مل جائے تو اور چیز ہے۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ اس سورۃ میں اس نے اپنی صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ بیان فرمائی ہے کہ مالک کی حیثیت سے وہ انسان سے معاملہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا ان سے تو یہ کوئی وعدہ نہیں بلکہ وعید بڑا ہے کہ غلط راہوں کو اختیار کرو گے تو عام قانون سزا کا ہے استثنائی طور پر معافی کا ہے ٹھیک ہے مالک ہے معاف کر دے لیکن اس نے ہمیں وعید یہ دیا ہے ہمیں کہا یہ ہے کہ اگر تم غلط راہوں کو اختیار کرو گے۔غلط نتائج نکلیں گے۔۔۔۔۔تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اچھے مقاصد کے حصول کے لئے کچھ نیک راہیں معین کی گئی ہیں ان راہوں پر چلو تو کیا دیکھو گے آگے تمہیں کیا انعام