انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 88 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 88

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ٨٨ سورة الفاتحة ملے گا خالی یہ نہیں کہا انعام ملے گا ان لوگوں کا انعام ملے گا جو تم سے پہلے گزرے جنہوں نے ہم سے انعام حاصل کئے اور تمہیں پتہ ہے کہ کس قسم کے انہوں نے انعام حاصل کئے ، انبیاء ہیں ، صدیق ہیں، شہید ہیں، صالح ہیں انہوں نے اس دنیا میں بھی انعام حاصل کئے تم نہیں یہ کہہ سکتے کہ جو مثال ہمارے سامنے رکھی جا رہی ہے وہ ہم سمجھ نہیں سکتے کیونکہ ان انعاموں کا جن کا ذکر کیا جارہا ہے دوسری زندگی میں ملنا ثابت ہے ان لوگوں کو اس دنیا میں بھی انعام ملا دنیا نے ان کو بے عزت کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بے عزت نہیں ہونے دیا ہر قسم کی عزت ان کو عطا کی سب سے زیادہ عزت تو اللہ تعالی کی آنکھ میں رضا کی چمک جب بندہ دیکھ لیتا ہے تو اس سے زیادہ اس کو کسی اور عزت کی ضرورت ہی نہیں رہتی، انبیاء ہیں ساری دنیا مخالفت کرتی ہے ایک شخص کھڑا ہوتا ہے خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ سامنے ہوتا ہے کہ ساری دنیا نے میری مخالفت کرنی ہے اس کو پستہ ہوتا ہے کہ دنیوی سامان میرے پاس نہیں ہیں کتنا بڑا توکل کا مقام ہے جو اسے حاصل ہوتا ہے ساری دنیا پر اپنے رب کو وہ ترجیح دیتا ہے اس پر وہ تو گل رکھتا ہے پھر دنیا اپنا زور لگا لیتی ہے لیکن اس شخص کو بے عزت اور نا کام نہیں کر سکتی بے عزباتی تو نا کامی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا کوئی بھی ساتھ نہیں تھا۔آدمی برداشت نہیں کر سکتا اس زمانے کے حالات جب اپنے ذہن میں لاتا ہے آپ نے خود نثر اور نظم اردو اور عربی میں لکھا ہے کہ گھر والے پرواہ نہیں کرتے تھے وہ جو برابر کا شریک تھا اس کو اپنے دستر خوان کے ٹکڑے بھیج دیتے تھے یہ عزت اس خدا کے برگزیدہ کی تھی اپنے خاندان کے دل میں۔لیکن خدا نے جو وعدے دیئے وہ پورے کئے آپ نے فرمایا اپنے زمانہ میں کہ کبھی تو دسترخوان کے ٹکڑے مجھے ملتے تھے اب ہزاروں خاندان ہیں جو میری وجہ سے پل رہے ہیں انہیں روٹی مل رہی ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۹۱ تا ۱۹۶)