انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 86
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۸۶ سورة الفاتحة حصول کے لئے اس کی رحمت نے تمہیں پیدا کیا ہے اس پیار کے حصول کی کوشش کرو۔(خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۱۶۵ تا ۱۶۷) اس سورۃ میں جو بڑے وسیع اور بڑے گہرے اور بڑے حسین مضامین اپنے اندر لئے ہوئے ہے اس میں ایک آیت یہ بھی ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان کیا ہے کہ ہر چیز کے حصول کا ایک صحیح راستہ ہے اور اسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے بہت سے غلط راستوں پر بھی چلے جاتے ہیں مثلاً ایک موٹی مثال ہے ایک شخص اپنے اس علم کی وجہ سے اور اس تجربہ کی وجہ سے جو علم اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیا اور جس تجربہ کے حصول کی اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق دی تجارت میں مہارت حاصل کر چکا ہے اور وہ دولت کما رہا ہے وہ تمام تجارتی اصول سامنے رکھ کے تجارتی معاملات کرتا ہے اور پھر دعائیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا اور اس کی عقل اور فراست کو روشن رکھتا ہے اور سیدھا راستہ اس کو دکھا دیتا ہے اور بڑا مالدار ہو جاتا ہے ایک دوسراشخص مالدار ہونے کے لئے چوری کرتا ہے اور دنیا میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ مبالغہ نہیں ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ پچاس فیصدی چور یقیناً ایسے ہیں جو پکڑے نہیں جاتے اور چوری کے مال سے وہ فائدہ اُٹھا رہے ہیں تو وہ بھی ایک راستہ تھا مال کے حصول کا جو اختیار کیا گیا اور کامیابی سے اختیار کیا گیا بظاہر دنیا دار جو ہے وہ دنیوی نقطہ نگاہ سے جب دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہ بھی مال دار ہے ایک شخص کہتا ہے کہ تم کہتے ہو سیدھا راستہ اختیار کرو اپنے ملک کی حالت دیکھو کتنے ہیں جنہوں نے بلیک مارکیٹنگ کے نتیجے میں اور بددیانتی کے نتیجہ میں مال کو جمع کر لیا ہے اور اب دنیا میں ان کی بڑی عزت ہے تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ سیدھے راستے سے اگر تم وہ چیز حاصل کرو گے جو کرنا چاہتے ہو د نیوی مال تو ایک نعمت ہے نا، دنیا میں ہزاروں نعمتیں ہیں اگر سیدھے راستے پہ چل کے تم اپنے مقصد کو حاصل کرو گے تو یہ تو ہوگا انعام اللہ کی طرف سے اور اگر غلط راستہ اختیار کرو گے تو وہ انعام نہیں ہو گا اس کے ساتھ سزا لگی ہوئی ہے اس دنیا میں بھی سز املتی ہے جب چور پکڑا جاتا ہے جب بددیانت پکڑا جاتا ہے جب بلیک مارکیٹ کرنے والا پکڑا جاتا ہے اور یہ گرفت کئی قسم کی ہوتی ہے کبھی اللہ تعالیٰ آسمان سے گرفت نازل کرتا ہے مثلاً بڑا مال کمالیا اور کھانا ہضم نہیں ہوتا کئی ایسے بھی ہم نے دیکھے ہیں بڑے امیر ہیں امارت پیسہ جو ہے مال جو ہے اس کا ایک خرچ یہ ہے کہ زبان کا چسکا جو ہے وہ پورا کیا جائے لیکن وہ شخص کھا ہی نہیں سکتا پیسے رکھے