انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 85
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث محنت کی جاسکے اور دعائیں کی جائیں۔۸۵ سورة الفاتحة ایسی دعائیں جو نسل کی طرح تڑپا دیتی اور خدا تعالیٰ کو پیاری ہیں ہمارے جسم اور ہماری روح کو اس مشقت کے برداشت کرنے کی توفیق ملے۔چنانچہ قیام صحت کے لئے اللہ تعالی نے کچھ راہیں یعنی کچھ طریقے مقرر کئے ہیں۔کچھ وسائل پیدا کئے ہیں ان راہوں کا علم حاصل کئے بغیر اور ان وسائل کے حصول کے بغیر ہم اپنی صحت کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ہم وہ محنت اور کوشش وہ تضرع اور دعا نہیں کر سکتے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی کے حقوق کی ادائیگی کے علاوہ دو قسم کے اور حقوق بھی ہوتے ہیں۔ان کی ادائیگی بھی ضروری ہے ایک تو حقوق العباد ہیں اور دوسرے حقوق النفس ہیں جب تک یہ حقوق ادا نہ ہوں۔انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے میں اور اس کے پیار کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔پس ہر وہ چیز جو ہم نے حاصل کرنی ہے ہمارا جو بھی مقصود و مطلوب ہے اور جس کے حصول کے لئے ہم نے کوشش اور دعا کرنی ہے اس کے لئے پہلی اور بنیادی چیز یہی ہے کہ ہمیں صراط مستقیم مل جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صراط مستقیم کو توحید کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے اور بالکل سچی بات ہے اور ہماری عقل بھی اسے تسلیم کرتی ہے۔چنانچہ آپ نے قریباً نو چیزوں سے توحید کا تعلق گنوایا ہے۔یہ تو ایک لمبا مضمون ہے۔اس وقت تو میں مختصراً چند باتیں کہنے پر اکتفا کروں گا۔میں نے بتایا ہے کہ صراط مستقیم کا حصول اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر میسر نہیں آ سکتا۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے اور اپنا مقصود پانے کے لئے ہمیں اپنی کوشش اور محنت ، تضرع اور دعا کو ذریعہ بنانا چاہیے۔یہی وہ صراط مستقیم ہے جس کے نتیجہ میں انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب ملتا اور انسان اس کے پیار اور اس کی رضا کو حاصل کر لیتا ہے اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس زمانے میں ہم پر ایک اور بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم تمام بنی نوع انسان کو اس خدا کی طرف کھینچ کر لے آئیں جس نے ان کو پیدا کیا ہے گویا جماعت احمدیہ کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ تمام بنی نوع انسان کے دل میں اس بات کو جانشین کر دے کہ تمہاری زندگی کا وہ مقصد نہیں ہے جو تم سمجھتے ہو بلکہ تمہاری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹو اور جس پیار کے