انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 84 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 84

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۸۴ سورة الفاتحة شکل میں سورۃ فاتحہ میں بیان کی گئی ہے۔گوساری سورۃ فاتحہ ہی ایک نہایت اعلیٰ رنگ کی دعا ہے لیکن اس میں دعا کے لحاظ سے ایک بنیادی نکتہ ہمیں یہ سوجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔انسان کو خلق کیا اسے بہت سی قو تیں اور استعدادیں بخشیں اور اس کی زندگی کا یہ مقصد ٹھہرایا کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے حی و قیوم خدا کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرے لیکن چونکہ اس تعلق کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحمت سے سورہ فاتحہ کی شکل میں ایک کامل دعا سکھا دی تا کہ ہم اس دعا کے ذریعہ خدا کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے اپنے مقصد حیات کو حاصل کر سکیں۔چنانچہ سورۃ فاتحہ کی اس آیہ کریمہ میں جس کی طرف میں نے ابھی اشارہ کیا ہے، اللہ تعالی اسی اصول کی رہنمائی کرتا ہے کہ میں نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے میری صفات کی جو تجلیات تمہیں اپنی زندگیوں اور اپنے ماحول میں نظر آتی ہیں اگر تم ان کا غور سے مشاہدہ کرو گے تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ہر شے کے حصول کے لئے ایک سیدھا اور مقررہ راستہ ہوتا ہے۔وسائل ہوتے ہیں جن کے بغیر انسان کسی چیز کو حاصل نہیں کر سکتا سیدھی راہیں ہوتی ہیں جن پر چلے بغیر انسان منزل مقصود تک پہنچ نہیں سکتا۔پس اگر یہ درست ہے اور یقیناً یہی درست ہے تو بنیادی دعا جو ایک انسان کو مانگنی چاہیے وہ یہی ہے کہ اے ہمارے خدا! ہمارا جو بھی نیک مقصد ہو اس کے حصول کے لئے جو سیدھی راہ ہے یعنی صراط مستقیم وہ ہمیں دکھا اور چونکہ انسان کی پیدائش کی اصل غرض خدا تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق کو قائم کرنا ہے۔اس لئے یہ دعا یوں بنے گی کہ اے ہمارے خدا! ہمیں وہ سیدھا راستہ دکھا جس پر چل کر ہم تجھ تک پہنچ سکیں اور تیرا قرب حاصل کر سکیں۔غرض جب تک اللہ تعالیٰ وہ راہ نہ دکھائے جب تک انسان محنت اور کوشش اور مجاہدہ کے ذریعہ اور دعا اور تضرع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو جذب نہ کرے جس کے نتیجہ میں اسے سیدھی راہ دکھائی جاتی ہے اس وقت تک خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا اس کا مقرب بن جانا اس کا محبوب بن جانا ممکن ہی نہیں۔پس جہاں تک مقصدِ حیات کا تعلق ہے یہ دعا کامل اور مکمل ہے لیکن یہیں بس نہیں بہت ساری ذیلی چیزیں ہیں جو حقیقتاً اسی مقصود کے حصول کے لئے ہیں مثلاً صحت کا قائم رہنا صحت کے قیام کے ساتھ اصل مقصد تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش اور