انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 83
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۸۳ سورة الفاتحة وہاں عمل ہے اور ترقیات کے دروازے کھلے ہیں۔وہاں پیچھے ہٹنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے آگے ہی آگے بڑھنا ہے ہر روز زیادہ ترقیات ملتی ہیں اور ہر روز زیادہ عمل کی توفیق ملتی ہے۔پس یہ شکل ہے ایک مومن کی زندگی کی۔پھر دنیا میں اُس کے اعمال بھی یہی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اور دوسری دُنیا میں بھی اُس کے اعمال یہی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اس دنیا میں انسان مومن صالح ، خدا کا محبوب اور مقرب دو قسم کا عمل کرتا ہے۔ایک عمل ہے اُس کا شکر ادا کرنے کے لئے اور ایک عمل ہے مزید شکر کے سامان کے حصول کے لئے یعنی پہلے سے زیادہ ملے اور زیادہ وہ شکر ادا کرے۔ہمیں اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة : ۲۰۲) کی دعا سکھائی کہ ہمیں ایسے اعمال کی توفیق عطا کر کہ اس دنیا کی حسنات بھی ہمیں ملیں ( مثلاً درخت لگے ہوئے ہوں اور گرمی کم ہو۔یہ دنیا کے حسنات میں سے ہے ) اور ہمیں ایسے مقبول اعمال کی توفیق عطا کر کہ تیری جنتیں ہمیں یہاں سے جانے کے بعد حاصل ہوں۔جنتوں کے ہم حقدار ٹھہریں وہاں جانے کے بعد ایک ہی زندگی ہے یہاں ہمارے سامنے دو زندگیاں ہیں۔ایک اس دنیا کی زندگی اور ایک اُس دنیا کی زندگی اس لئے اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ہمیں سکھایا لیکن اُس دنیا میں ایک ہی زندگی ہے یعنی جنت کی زندگی اور اس میں امتحان نہیں ہے لیکن ترقیات ہیں اس لئے وہ ایک ہی قسم کے اعمال ہیں۔وہ اعمال شکر بھی ہیں اور مزید ترقیات کے حصول کے بھی ہیں یہاں فِي الدُّنْيَا حَسَنَةٌ کی جو دعا ہے وہ شکر کے لئے ہے اور ناکامیوں سے بچنے کے لئے بھی ہے کہ جو تو نے دنیا کی نعمتوں کے حصول کے دروازے ہمارے لئے کھولے ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور ہمیں توفیق دے کہ ان پر تیرا شکر ادا کرسکیں اور کبھی محروم نہ رہ جائیں۔بہر حال یہ مومن کی زندگی کی تصویر ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ مومن جب حقیقی مومن بن جاتا ہے تو اس کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ استقامت اور صراط مستقیم قریباً ایک مفہوم میں استعمال ہو جاتے ہیں۔پس استقلال کے ساتھ اور استقامت کے ساتھ کام کرتے چلے جانا یہ مومن کی زندگی کی ایک نمایاں علامت ہے۔(خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۴۷۹ تا ۴۸۲) اسلام ایک کامل مذہب ہے۔اسلام نے ہمیں ایک کامل دعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے الفاظ میں سکھاتی ہے۔دراصل جس طرح ایک نگینہ کسی زیور میں جڑا ہوتا ہے اسی طرح یہ دعا بہترین دعا کی