انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 82
۸۲ سورة الفاتحة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اس طرح پر یہ صراط مستقیم جو ایک معنی میں منزل بہ منزل انسان کی خوشیوں کے سامان بھی پیدا کرتا ہے اور دوسرے معنی میں ہر منزل اگلی منزل کی نشاندہی کرتی ہے اور اس طرح پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو مزید حاصل کرنے کی جو خواہش دل میں مچلتی ہے اُس کے لئے مزید طاقتوں کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں دعا سکھائی۔پس صرف یہ نہیں کہا کہ ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ صراط مستقیم کی ہدایت ملنے کے بعد بھی بعض بد قسمت راہ راست کے کنارہ پر گر کر مر جاتے ہیں اور ان کا جسم اور رُوح سرگل جاتی ہے اور تعصب اُن میں پیدا ہو جاتا ہے۔آخر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی زندگی میں ہمیں یہ نظارہ نظر آیا کہ بعض ایسے بد قسمت تھے جن کو یہ کامل اور مکمل ہدایت ملی یعنی قرآن عظیم کی شریعت اور جن کو ایک بہترین اُسوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ملا اُنہوں نے اس کو ایک حد تک پہچانا اور اس سے فائدہ حاصل کیا اور ایک وقت کے بعد وہ مرتد ہو گئے۔پس صراط مستقیم کے کنارے پر ان کی رُوحانی یا بعض دفعہ رُوحانی اور جسمانی ہلاکت واقع ہوئی۔پس محض صراط مستقیم کا عرفان حاصل کر لینا کافی نہیں یعنی اس ہدایت کا مل جانا کہ یہ سیدھا راستہ ہے بلکہ اس پر چلنا ضروری ہے اور محض چلنا ضروری نہیں بلکہ ہر لمحہ اور ہر آن پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ راہ راست پر حرکت کرنا ضروری ہے تب انسان کو آخری خوشیاں اور جو انتہائی لذتیں ہیں اور انتہائی خوشی ہے وہ ملتی ہے جس کا نام اس دُنیا کی جنت بھی رکھا گیا ہے اور جس کی آخری شکل اس جہان سے گذرنے کے بعد دوسری زندگی کے اندر انسان کے سامنے آئے گی لیکن وہاں بھی صراط مستقیم کی منازل کی انتہا نہیں ہوگی۔قرآن کریم نے بھی اور احادیث نے بھی قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے بڑی وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ وہاں بھی اگر چہ امتحان نہیں ہو گا مگر عمل ہو گا۔امتحان کا مطلب ہے کہ جہاں یہ خطرہ ہو کہ عمل درست بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ہو سکتا ہے۔عمل اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل بھی کر سکتا ہے یعنی عمل صالح بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھی بھڑکا سکتا ہے یعنی عمل غیر صالح بھی ہو سکتا ہے۔پس یہاں عمل ہے اور امتحان ہے اور دوسری زندگی میں عمل تو ہے ( نکتا پن نہیں کہ پوستیوں کی طرح افیم کھا کر بیٹھ گئے اور اونگھتے رہے ) عمل ہے مگر امتحان نہیں۔یہاں عمل ہے اور امتحان ہے۔