انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 81
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ΔΙ سورة الفاتحة ہونے سے بھی تجھے اے انسان بچایا جائے گا مغضوب ہونے سے بھی تجھے بچایا جائے گا اور صراط مستقیم تجھے دکھائی جائے گی اس راہ پر چلنے کی تجھے تو فیق عطا کی جائے گی میرے قرب کو تو حاصل کر لے گا میری رضا کی جنت میں تو داخل ہو جائے گا اور اس گروہ میں شامل ہو جائے گا جو منعم علیہم کا گروہ ہے جسکا ذکر متعدد آیات قرآنیہ میں پایا جاتا ہے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۱۰ تا ۲۱۵) قرآن کریم نے ہمیں صرف یہ دعا نہیں سکھائی کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرے۔اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں صراط مستقیم کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ راستہ جو کم سے کم کوشش کے نتیجہ میں منزل مقصود تک پہنچانے والا ہو۔دُنیا کی ہر خواہش کے پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ایک راستہ ہے اور جب تک اُس راہ کا علم انسان کو نہ ہو وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچتا یا بہت تکالیف اُٹھانے کے بعد بہت چکر کاٹ کر اور تکلیف اُٹھا کر اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ہمیں صرف یہ دعا نہیں سکھائی بلکہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کی قبولیت کے ساتھ جو ذمہ واری ہم پر عائد ہوتی ہے اُس کے نبھانے کے لئے دعا ہمیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں پہلے سکھائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ اے خدا! ہمیں تو فیق عطا کر کہ جو طاقتیں تو نے صراط مستقیم پر چل کر منازل مقصودہ تک پہنچنے کے لئے عطا کی ہیں ہم ان کا صحیح اور پورا استعمال کر سکیں۔اس تفسیر کی روشنی میں اتناكَ نَعْبُدُ کے یہ معنی ہیں۔پھر وَايَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی کہ بتدریج ارتقا کا قانون اس مادی دنیا میں ہمیں نظر آتا ہے اور کسی منزل کو بھی آخری منزل سمجھ کر تسلی پا جانے کی فطرت ہمیں تو نے دی نہیں اس لئے ہر منزل پر پہنچ کر اگلی منزل کی تلاش دل میں پیدا ہوتی ہے اور تیری محبت کی جس منزل پر بھی ہم پہنچے ہوتے ہیں اُس سے زیادہ کے حصول کی خواہش ہمارے دل میں مچلتی ہے اس لئے ہر منزل جس تک ہم پہنچیں (ان طاقتوں اور کوششوں اور تدابیر کو انتہا تک پہنچا کر ان طاقتوں کے ذریعہ جو تو ہمیں دے چکا ہے یعنی اپنی انتہائی کوشش کے نتیجہ میں ) وہ تیری پیدا کردہ فطرت کے مطابق ہماری آخری منزل نہیں بلکہ انگلی منزل کی خواہش پیدا ہوتی ہے جس کے لئے پہلے سے زیادہ قوت اور طاقت کی ضرورت ہے اور جب تیری توفیق سے اپنی طاقتوں کا صحیح اور پورا استعمال کر کے ہم ایک جگہ پہنچیں تو پھر ہماری دعا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں مزید طاقتیں عطا کر۔چنانچہ ايَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اس طرف اشارہ ہے اور