انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 79
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۷۹ سورة الفاتحة جائے گا وہ میں استعمال کرلوں گا ایک مومن کی یہی نیت ہوتی ہے اس کی یہ نیت نہیں ہوتی کہ جو مجھ سے بچ جائے گا وہ میں خدا کو دے دوں گا بلکہ اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ جو بچ جائے گا اس معنی میں وہ کہے کہ میں نے اتنا لے لیا باقی تم استعمال کر لو تو پھر وہ میں استعمال کر لوں گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے بعض کے ساتھ یہی سلوک کیا آپ نے فرمایا نہیں اتنا مال نہیں چاہیے واپس لے جاؤ اور استعمال کرو اس نیک نیتی کے ساتھ جتنا دینا چاہا پیش کر دیا اور ہمیں یقین ہے کہ اس نے خدا سے اسی کے مطابق ثواب حاصل کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حالات کو دیکھتے ہوئے اور اسلام کی اس وقت کی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہا سارے مال کی ضرورت نہیں واپس لے جاؤ پھر یہ بتانے کے لئے کہ جب ایک مومن خدا کے حضور اپنا سارا مال پیش کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بد نیتی نہیں ہوتی کہ سارا مال قبول نہیں کیا جائے گا اس لئے سارا مال پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں حضرت ابوبکر نے جب اپنا سارا مال پیش کیا تو وہ سارا قبول کر لیا گیا اور بتایا گیا کہ ہر مومن کے دل کی یہی کیفیت ہے لیکن کچھ مومن وہ ہوتے ہیں جو جواں ہمت ہوتے ہیں اور جو انتہائی بوجھ برداشت کر سکتے ہیں (چنانچہ آپ نے ان میں سے ایک کا سارا مال لے لیا اور مثال کو قائم کر دیا ) اور کچھ وہ ہوتے ہیں کہ ان کی روح تو انتہائی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہوتی ہے لیکن ان کا ماحول اور ان کا جسم اس کے لئے تیار نہیں ہوتا ان کو فتنہ اور امتحان سے بچانے کے لئے ان کے مال کا ایک حصہ قبول کر لیا جاتا ہے اور ایک حصہ واپس کر دیا جاتا ہے۔پس مومن کی مادی کوشش دنیا میں حدود سے ورے ختم نہیں ہو جاتی اور اس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا که ضَلَّ سَعْيُهُم في الحیوۃ الدنیا کیونکہ روپیہ وہ خرچ کرتے ہیں زندگی کا ہر لمحہ جو وہ گزارتے ہیں اخلاق کا ہر مظاہرہ ان سے سرزد ہوتا ہے بچوں سے محبت اور پیار کا سلوک جو دنیا ان سے دیکھتی ہے اس کے پیچھے یہی روح کام کر رہی ہوتی ہے کہ جس نے خدا کی رضا کے لئے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالا اس نے بھی ثواب حاصل کر لیا۔غرض مومن اپنے ہر دنیوی کام کو اُخروی جزا اور اُخروی نعماء کے حصول کا ذریعہ بنالیتا ہے اور اس کے متعلق ہمیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا والے گروہ میں ہے لیکن بہت سے لوگ ہمیں ایسے بھی نظر آتے ہیں بہت سی قومیں ہمیں ایسی نظر آتی ہیں جو راہ بھول گئے ہیں ان کو پتہ ہی نہیں کہ سیدھا راستہ کونسا ہے اس لئے وہ مغضوب علیہم کے گروہ