انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 78 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 78

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ZA سورة الفاتحة ہمارے شاملِ حال نہ ہو اس لئے تجھ سے یہ عاجزانہ دعا ہے کہ ہمیں مغضوب کبھی نہ بنانا۔وَلَا الضَّانِينَ اور نہ کبھی ہمیں ضال بنانا۔خال سیدھے راہ سے بھٹکنے والے کو کہتے ہیں اور قرآن کریم نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ الَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ( الكهف : ۱۰۵) پس ضالین وہ ہیں جن کی تمام کوششیں ان راہوں کی تلاش میں رہتی ہیں جو اُخروی زندگی سے ورے ورے ختم ہوتی جاتی ہے۔ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وہ اس ورلی زندگی کے کناروں سے نکل کر اُخروی زندگی تک نہیں پہنچتیں۔راہ بھٹک جاتی ہے کوشش جو ہے وہ آگے چل ہی نہیں سکتی ایسے راستے وہ اختیار کرتے ہیں جن کا صرف اس دنیا سے تعلق ہے حالانکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ ساری چیزیں (خواہ وہ قو تیں اور استعدادیں ہوں یا مادی سامان ہوں یا فطرت کے تقاضے ہوں ) اس لئے دی تھیں کہ اس دنیا میں وہ ختم نہ ہوں نہ صرف اس دنیا سے ان کا تعلق ہو بلکہ ان کے نتیجہ میں انسان اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت کو حاصل کرے اور اس دنیا میں بھی وہ اس رضا کی جنت کو حاصل کرے لیکن ایک گروہ انسانوں میں سے یا بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ جو ان قوتوں کی انتہا اس دنیا کے ورے ورے سمجھتے ہیں اسی طرح دنیا کے جو سامان ہیں ان کے متعلق سمجھتے ہیں کہ وہ بس دنیا میں ہی ہمارے کام آئیں گے حالانکہ ایک عقلمند مومن یہ جانتا ہے کہ وہ بکرا جو خدا نے مجھے دیا ہے اور جو گوشت پوست ہے اور اس کی زندگی بھی چھوٹی ہے ایک ایسی چیز ہے جو صرف اس دنیا میں ہمارے کام نہیں آسکتی بلکہ اگر ہم چاہیں تو یہ اس دوسری دنیا میں بھی ہمارے کام آئے گی کیونکہ اگر ہم چاہیں تو تقویٰ کا ٹیگ لیبل اس کے ساتھ لگا دیں تو بکرا یہاں رہ جائے گا لیکن وہ ٹیگ، وہ لیبل آسمانوں کے خدا کے پاس پہنچ جائے گا۔لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمُ (الحج : ۳۸) تقویٰ کے ساتھ لگا تو بکرا اللہ کے حضور پہنچ گیا اور تمہارے لئے دوسری زندگی میں بھی مفید ہو گا ( یہ زندگی تو اس زندگی کے مقابلہ میں اتنی معمولی چیز ہے کہ ہم اس کا نام ہی نہیں لیں گے ) دوسری زندگی میں بھی وہ کام آجائے گا آپ دفتر میں جاتے ہیں سو روپیہ آپ کو تنخواہ ملتی ہے اب کوئی احمق ہی کہہ سکتا ہے کہ یہ چاندی کے سکے یا کاغذ کے نوٹ صرف اس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں قیصر کی چیز ہے اس کا ایک حصہ اس کو دے دینا چاہیے لیکن چونکہ یہ خدا کی چیز نہیں اسے نہیں دینا چاہیے اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو وہ تباہ ہو جائے گا اُسے یہ کہنا چاہیے کہ ہر چیز چونکہ خدا کی ہے اس لئے جس قدر چاہے وہ لے لے پھر جو بچ