انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 77 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 77

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث 22 سورة الفاتحة اس آیت میں بڑی وضاحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ غضب اس گروہ یا فرد پر نازل ہوتا ہے جو انشراح صدر سے کفر کے راستہ کو قبول کرتا ہے پس غضب کے نزول کے لئے جو وجہ بنتی ہے وہ جان بوجھ کر خدا تعالیٰ کے غضب، اس کی ناراضگی اور اس قبر کے راستوں کو اختیار کرنا ہے کہ اس سے خدا ناراض ہو جائے لیکن پھر جرات کرتا ہے اور خدا کی ناراضگی ، اس کے غضب اور قہر کو مول لیتا ہے۔اسی طرح سورۃ بقرہ کی آیات ۹۰ اور ۹۱ میں یہ مضمون بیان ہوا ہے میں چونکہ اختصار کرنا چاہتا ہوں اس لئے نہ میں پوری آیات پڑھ رہا ہوں نہ میں ان کا ترجمہ کروں گا نہ تفسیر بیان کروں گا میں اس مطلب کے ٹکڑے لوں گا ، آیت ۹۰ میں ہے۔فَلَمَّا جَاءَ هُم مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِہ کہ ان کے پاس جب کافروں پر فتح اور کامرانی حاصل کرنے کے سامان آگئے تو باوجود اس عرفان کے، باوجود اس کے سمجھ کے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت کے سامان پیدا ہوئے ہیں، كَفَرُوا پہ انہوں نے اس کا انکار کر دیا اور آیت ۹۱ میں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اس بات پر بگڑتے ہیں کہ اللہ اپنی مرضی سے اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے کلام نازل کر دیتا ہے یہ کیا بات ہوئی ہم جس پر چاہیں اللہ کا فضل ہے (نعوذ باللہ ) کہ وہ اس پر کلام نازل کرے غرض وہ جانتے تھے کہ کلام اللہ کا ہے وہ یقین رکھتے ہیں کہ جس پر یہ کلام نازل ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی کو پسند کیا ہے اور اس کو اپنا محبوب بنانا چاہا ہے۔اپنے قرب سے نوازنا چاہا ہے اور اس پر اپنا کلام نازل کیا ہے اور یہ جانتے بوجھتے انکار کرتے ہیں نتیجہ کیا ہوا؟ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبِ ایک غضب کے بعد دوسرے کا وہ مورد بن گئے جَاءَهُمُ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِہ کی وجہ سے ایک غضب مول لے لیا اور اس بات سے ناراض ہوئے کہ خدا نے اپنی مرضی سے اپنی پسند سے اس شخص پر اپنا کلام کیوں نازل کیا جسے اس نے مقرب بنانا چاہا ہماری مرضی چلنی چاہیے تھی وہ سمجھتے ہوئے کہ یہ کلام خدا کا ہے اور جس پر نازل ہوا ہے وہ خدا کا مقرب بھی ہے انکار کر جاتے ہیں فَبَاءُوا بِغَضَبِ عَلَى غَضَبِ ایسے لوگ غضب کے بعد غضب کے مورد ہو جاتے ہیں۔غرض غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ اے خدا کبھی ایسا نہ ہو کہ ہم شیطان کی طرح تیری معرفت رکھنے کے باوجود اس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ تیری طرف لے جانے والی صراط مستقیم کون سی ہے پھر بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور شیطان کی راہوں کو اختیار کر لیں اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک تیر افضل اور تیری رحمت