انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 1

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ آیت اتا۷ سورة الفاتحة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الفاتحة بیان فرموده سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ b (۵ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ لى صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد آیات میں یہ بیان کیا ہے کہ اس عالمین کی پیدائش بلا وجہ اور بغیر مقصد کے نہیں۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں قرآن کریم کے شروع میں ہی اس بنیادی اصول کی طرف یہ کہہ کر توجہ دلائی تھی کہ الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین کہ اس عالمین کی ربوبیت ہوئی ہے۔رب کے معنے ہیں پیدا کر کے درجہ بدرجہ مدارج ارتقا طے کرواتا چلا جانے والا یعنی وہ پیدا کرتا ہے اور وہ خود درجہ بدرجہ مختلف مدارج میں سے گزار کے اس کی جو استعداد ہے اس کو اپنے مخصوص دائرہ استعداد کمال تک پہنچاتا ہے۔مثلاً گندم کا بیج ہے ہمارے ہزاروں زمیندار بھائی یہاں بیٹھے ہیں وہ گندم کا پیچ اپنے کھیتوں میں ڈال کے جلسہ سننے کے لئے آ جاتے ہیں۔اب یہ بھی نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر گندم کا بیج گندم کی فصل کی شکل اختیار کر کے گندم پیدا کرتا ہے۔اس کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ میں اپنے بعض بندوں کا تیرے ذریعہ سے پیٹ بھرنا چاہتا ہوں اس لئے تو ایک کی بجائے ستر یا سویا دوسو