انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 2 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 2

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الفاتحة یا استعداد کے مطابق سات سو تک یا اس سے بھی بڑھ کر جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے۔بڑھنا ہے لیکن خدا تعالیٰ کا یہ حکم مختلف دوروں میں سے اس بیچ کو گذارتا ہے پہلے اس کی جڑیں نکلتی ہیں اور زمین کے اندر پھیلنی شروع ہو جاتی ہیں اور جو نئے نئے زمیندار بنتے ہیں ان کو پہلے دن بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ پتہ نہیں اس سے روئیدگی باہر آئے گی یا نہیں اور ہر دوسرے تیسرے دن جب تک وہ باہر نہیں آ جاتا جا کے اس مٹی کو کرید کے جسے پنجابی میں پھولنا کہتے ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ نیچے جڑیں بن رہی ہیں یا نہیں۔پھر وہ کچھ دنوں کے بعد باہر نکل آتی ہیں۔جس طرح زرد رنگ کا نحیف کمزور بچہ ہوتا ہے وہ اس کی شکل ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین سے اور پانی سے وہ اپنی غذا کو لیتا ہے اور بڑھتا ہے۔پہلے پتے نکالتا ہے اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ پتے جب زمین اور سورج کی شعاعوں سے اپنی طاقت حاصل کر لیتے ہیں تو اس سٹاک کو جس میں بعد میں گندم کے دانے لگتے ہیں۔اس کو یہ طاقت دیتا ہے اور وہ بڑھنی شروع ہو جاتی ہے۔پھر سٹہ نکل آتا ہے اس کو ، اور پھر پتے اور اس کا جو سٹاک ہے تنا چھوٹا ساوہ اپنی ساری طاقت بیچ کی طرف منتقل کر کے بڑھاپے کی چادر اوڑھ لیتا ہے اور اس کی کمر بعض دفعہ دہری ہو جاتی ہے چہرہ زرد ہو جاتا ہے اور کوئی جان اُن میں نہیں رہتی۔خون سب خشک ہو جاتا ہے اور دانے موٹے ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس ایک لمبا سلسلہ درجہ بدرجہ ترقی کرنے کا ہر چیز میں ہمیں نظر آتا ہے یہ ایک مثال میں نے دی ہے۔قرآن کریم نے ہمیں فرمایا کہ اس عالمین میں بنیادی طور پر تدریجی ترقی کا اصول قائم کیا گیا ہے۔اس تدریجی ترقی کا اصول کس لئے قائم کیا گیا ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تدریجی ترقی کا اصول اس مقصد کے حصول کے لئے ہے جس مقصد کے حصول کے لئے اس عالمین کو پیدا کیا گیا یعنی عالمین کو پیدا کیا گیا ایک خاص مقصد کے لئے اور اس تدریجی ترقی اور تدریجی ارتقا کا اصول قائم کیا گیا ہے تا کہ وہ مقصد حاصل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ سورۃ عنکبوت میں فرماتا ہے خَلَقَ اللهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ (العنكبوت: (۴۵) که اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ سورۃ روم قف میں فرماتا ہے۔اَو لَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمُ مَا خَلَقَ اللهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى وَ إِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ بِلِقَائِ رَبِّهِمْ لَكَفِرُونَ (الروم :۹) کیا وہ سوچتے