انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 62 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 62

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۶۲ سورة الفاتحة ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے جو کچھ مل چکا ہے اس کی قدر کرو اور اس سے حتی المقدور فائدہ اُٹھاؤ ، اپنی قوت اور طاقت کے مطابق اپنی تدبیر کو انتہا تک پہنچا دو اور اس کے بعد میرے پاس آؤ اور مجھے سے مانگو ، میں تمہیں نبی نعمتیں دوں گا، میں تم پر اپنے فضلوں کے دروازے کھولوں گا۔حضرت مسیح موعود ووو علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ ریاء اور نمائش کے زہر کا تریاق ہے کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہم نے تمہیں جتنی قوتیں اور طاقتیں عطا کی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر صرف اس کی رضا کے حصول کے لئے ہیں۔اُس کے اخلاق کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے کے لئے ہیں۔پس جب انسان اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں اور دوسری ہر قسم کی نعمتوں کا استعمال اور ان سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش محض اس لئے کرے کہ خدا تعالیٰ کی رضا اس کو حاصل ہو تو پھر ریا نہیں ہو گا نمائش نہیں ہوگی، کسی کو دکھانے کی خواہش نہیں ہوگی۔نمائش کے ذریعہ سے لوگوں کی واہ واہ حاصل کرنے کی خواہش اور ارادہ نہیں ہو گا۔یہ مقام تو فنا کا مقام ہے جب غیر اللہ سے دل تہی ہو جاتا ہے تو اس میں صرف اللہ تعالی کا خیال رہ جاتا ہے جو شخص ہر مخلوق شجر حجر وغیرہ کو استعمال میں لاکر فائدہ اُٹھا سکتا ہے ہر نعمت کو جو آسمان سے آتی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ذریعہ سے نازل ہوتی ہے اس کو محض اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے وہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے اور جو بھی میں نے کرنا ہے وہ خدا تعالیٰ کے لئے کرنا ہے تو پھر انسان کے کسی بھی عمل میں ریاء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایسے انسان کے کسی بھی کام میں حتی کہ اس کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی ریاء کا کوئی دخل ہی نہیں ہوسکتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ايَّاكَ نَعْبُدُ ریاء کی بیماریوں کا علاج ہے کیونکہ انسان جب سب کچھ کرنے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ میں نے یہ اپنی کسی قوت پر اور نہ اپنی کسی قابلیت پر بھروسہ کرنا ہے اور نہ ہی دوسری نعمتوں کو خدائی کا درجہ دینا ہے بلکہ سب کچھ کرنے کے بعد یہ سمجھنا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا، سب کچھ کر لینے کے بعد اور تد بیر کو انتہا تک پہنچانے کے بعد بھی میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتے ہوئے جھکنا ہے اور یہ کہنا ہے کہ میں نے جو کچھ کرنا تھا وہ میں نے کر لیا ہے جو کچھ میں کر سکتا تھایا جو میرے بس میں تھا وہ تو ہو چکا لیکن میں جانتا ہوں کہ اس کے باوجود میں تیرے فضلوں کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک تیرا ارادہ، تیری مدد، تیری نصرت میرے