انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 55 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 55

تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث سورة الفاتحة کہتا ہے کہ اے خدا اس قسم کی ہزاروں موتیں بھی آئیں تیری رحمت اور تیرے فضل اور تیرے پیار کے مقابلہ میں یہ موتیں ہمیں کیسے ڈرا سکتی ہیں موت ہمارا منتہا نہیں۔تیری رضا ہمارا منتہائے مقصود ہے اور تیرے فضل اور رحم پر منحصر ہے۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۵۸۱ تا ۶۰۲) ہماری دعائیں سورۃ فاتحہ سے شروع ہوتی ہیں۔سورۃ فاتحہ جو کہ پہلی سورۃ ہے اس میں اتنی زبر دست دُعائیں ہیں اور اتنی وسیع دُعائیں ہیں کہ ان کی وسعتوں میں تو اس مختصر سے وقت میں میں نہیں جا سکتا لیکن اس وقت کی دُعا بہر حال سورۃ فاتحہ سے ہی شروع کرتا ہوں۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کی چار بنیادی صفات کا ذکر ہے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُمہات الصفات کہا ہے۔یعنی ہمارا اللہ رب العالمین ہے۔ہمارا اللہ رحمن ہے۔ہمارا اللہ رحیم ہے۔ہمارا اللہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے اور ہمیں یہ حکم ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا رنگ اپنے پر چڑھاؤ۔اور پھر سورۃ فاتحہ میں یہ ذکر ہے کہ یہ جو اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفات ہیں ان صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ۔ان صفات کے جلووں کے نتیجہ میں انسان کو بہت سی طاقتیں اور استعداد یں حاصل ہوتی ہے۔اس لئے اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں ہمیں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ خدا سے یہ دُعا کرو کہ اے خدا جو قو تیں اور استعداد میں تو نے دی ہیں انہیں احسن اور بہتر رنگ میں استعمال کرنے اور ان استعدادوں سے پورے طور پر فائدہ اُٹھانے کی ہمیں توفیق عطا کر پھر چونکہ انسان ہمیشہ کی ترقیات کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اس لئے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی اے خدا جو کچھ تو نے دیا ہے اس سے جب ہم پورا فائدہ اُٹھا لیں تو وہ ہماری آخری منزل تو نہیں ہے اس کے بعد مزید منزلوں نے آنا ہے۔پس ان کے لئے جن استعدادوں اور قوتوں کی ہمیں ضرورت ہو وہ ہمیں عطا کر اور اپنے صراط مستقیم پر ہمیں قائم کر دے اور اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرلے۔(خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۸۸٬۸۷) خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں سے تو یہ سلوک نہیں ہوتا وہ تو صرف پاس ہی نہیں کرتا ، وہ صرف رحیم ہی نہیں ہے، صرف استحقاق ہی پیدا نہیں کرتا بلکہ وہ ملِكِ يَوْمِ الدین بھی ہے۔ہر چیز اس کے ہاتھ میں ہے۔وہ جب استحقاق پیدا کرتا ہے تو ساتھ یہ بھی کہتا ہے، یہ لو اور دنیا حیران ہے اور ہم اپنے پیارے ربّ کے پیارے جلوؤں کو دیکھ کر خوشی سے اپنی زندگی کے دن گزار رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ میں تمہیں دُنیا کی طرح اجر نہیں دوں گا بلکہ میرا اجر تو اجر عظیم