انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 570
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۷۰ سورة النساء ہے تو پانچ دس ہزار کی اس کا اتنا نقصان ہے لیکن تم نے جنت کے دروازے اپنے اوپر بند کر لئے اس کا نقصان تو تمہارے نقصان کے مقابلے میں کوئی چیز ہی نہیں ہے۔تو إِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ ہر گناہ جو ہے اس کا اصل وار جو ہے انسان کے، گناہگار کے اپنے نفس کے اوپر ہے اور ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہر حکم جو دیا گیا وہ علیم و حکیم کی طرف سے دیا گیا ہے جو جانتا تھا کہ تمہارے فائدے کے لئے تم پہ حسن چڑھانے کے لئے تمہیں منور کرنے کے لئے تمہیں پاکیزہ اور مطہر بنانے کے لئے کن چیزوں کی ضرورت تھی اس کے مطابق تمہیں ہدایت اور شریعت دی گئی ، اس کے مطابق تمہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا ایک اسوہ دیا گیا اور تیسرے یہ کہ سب سے بڑا ظلم تو یہ ہے کہ انسان گناہ کرے اور تہمت دوسرے پہ لگادے اس کو اپنی زیادہ فکر کرنی چاہیے۔ہر ایک کو ہی تو بہ اور استغفار کا جو دروازہ کھلا چھوڑا ہے خدا تعالیٰ خدائے غفور رحیم نے ، گناہ ہوتے ہی خدا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اور ہمیں اس طرح صاف اور ستھرا اور سفید کر دے اس سے بھی زیادہ جتنا ایک دھوبی کپڑے کو پتھروں پہ مار مار کے شفاف پانی میں کرتا ہے۔آجکل کے بعض گندے پانیوں میں بھی دھوبی دھو دیتے ہیں، شفاف پانی میں جو پہاڑی نالوں کا میٹھا شفاف پانی ہے اس کے اندر ایسے اجزا ہیں جو گند کو نکالنے والے ہیں کوئی گند باقی نہ رہے تا کہ وہ جو نور ہے ہماری ہلکی سی روشنی کو وہ پسند کرے اس کے نور کے مقابلے میں تو کچھ نہیں لیکن بہر حال اس سے مشابہت حاصل کرنے کی اس کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کی گئی اور ہمیں وہ پاک بنے کی اور مطہر بننے کی توفیق عطا کرے تا کہ ہمارا اس کے ساتھ ایک زندہ تعلق پیدا ہو جائے کہ ہم اسی زندگی میں اس کے پیار کی آواز سننے والے ہوں تاکہ ہماری ساری خوشیاں اس آواز پر بنیا درکھنے والی ہوں کہ وہ ہمیں کہتا ہے کہ تم فکر نہ کرو تم گھبراؤ نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں۔پھر اس کے بعد کسی اور چیز کی انسان کو ضرورت نہیں رہتی۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۱۳۹ تا۷ ۱۴) پھر ہم لوگ جو حقیقت محمدیہ کو پہچانتے ہیں جانتے ہیں کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام اخلاق فاضلہ کو اپنے وجود اور اسوہ میں جمع کرنے والے تھے جس کی جھلک ہمیں گزشتہ تمام انبیاء میں مختلف طور پر نظر آتی ہے۔پس انبیائے ماسبق اور خدا تعالیٰ کے وہ پیارے جو بعد میں پیدا ہونے والے تھے ان سب کے اندر ہمیں اخلاق فاضلہ کی جو جھلک نظر آتی ہے جو متفرق طور پر آدم علیہ السلام سے