انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 566 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 566

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۶۶ سورة النساء صاف کر رہا ہے۔طبیعتوں طبیعتوں میں بڑا فرق ہے۔بے شمار قسمیں بن جاتی ہیں ان کو ہم گن نہیں سکتے لیکن ایک حقیقت اپنی جگہ محکم اور ثابت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی کمزوری انسان کی ایسی نہیں کہ اگر اس کے نتیجہ میں وہ خدا کو ناراض کرنے والا ہو جائے تو اس پر توبہ کا دروازہ بند ہو اور خدا تعالیٰ کی مغفرت اور رحم سے ہمیشہ کے لئے اسے محروم کر دیا جائے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ میں جو مغفرت اور رحم کی صفت ہے غفور اور رحیم ہونا اس کا ، یہ ازلی ابدی صفت ہے اور ایک فرد واحد ، میں نے تو ہزار دفعہ کہا تھا اگر لاکھ دفعہ کروڑ دفعہ بھی غلطی کرتا اور کروڑ دفعہ اپنے رب کریم کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو بہ اور ندامت کے جذبات کے ساتھ تو ایک کروڑ دفعہ اس پر خدائے رب کریم کا دروازہ کھولا جائے گا۔اس آیت میں ایک لوگوں کے حقوق کی ادئیگی کا اشارہ ہے یا عدم ادائیگی کی طرف یعنی ادا ئیگی ہوگی تو وہ ثواب ہے اور اگر نہیں ادا ئیگی کرے گا تو وہ سوءا ہے، بدی ہے۔ایک اپنے نفس کے حقوق کی ادائیگی ہے۔اپنے نفس کے حقوق کو ادا کرنا، اس آیت سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے، اتنا ہی ضروری ہے جتنا غیروں کے حقوق کی ادائیگی اپنے نفس کے ساتھ۔پھر ایک دائرہ آ جاتا ہے خاندان کا۔جو حقوق خدا تعالیٰ نے کسی کے رشتہ داروں کے قائم کئے ہیں اگر ذمہ وار آدمی وہ حقوق ادا نہ کرے صرف اس لئے کہ اس کے اوپر کوئی اعتراض کرنے والا یہ اعتراض کر دے گا کہ چونکہ تمہارے ساتھ عزیز داری ہے اس لئے تم اس کی رعایت کر دو گے تو اسلام اس کو گناہ سمجھتا ہے اور اس شخص کے حق کو قائم کرنا اور اس کو ادا کرنا جو خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس کو ثواب اور جنت کا دروازہ کھولنے والا ایک عمل صالح سمجھتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے۔آپ کے ایک عزیز کا ایک دوسرے مسلمان کے ساتھ چشمے کا پانی تھا بہر حال ایک کنارہ تھا قدرتی، اس پانی کے اوپر ہوا جھگڑا۔آپ کے عزیز کی زمین او پر تھی پانی کی طرف۔دوسرے مسلمان کی نیچے تھی۔وہ آیا آپ کے پاس۔آپ نے کہا اپنے عزیز کو کہ کھیتوں کو اپنے پانی دو بے شک لیکن اس کے لئے بھی چھوڑ دیا کرو پانی۔وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اس کی رشتے داری ہے آپ کے ساتھ۔آپ تو احسان کر رہے تھے یعنی جو حق تھا اس سے زائد اس کو دے رہے تھے جب اس نے یہ کہا تو پھر آپ نے کہا الفاظ میں یا عمل سے کہ اچھا تم اسلامی تعلیم کے مطابق فیصلہ کروانا چاہتے ہو تو وہ یہ ہے کہ اپنے عزیز کو کہا تمہاری زمین اوپر ہے تم اپنے کھیت کو پانی پلاؤ۔پھر پانی پلا ؤ، پھر پانی پلا ؤ اور