انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 557 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 557

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۵۷ سورة النساء ذمہ داری کو اس وقت نبھانے والے ہو گے جب وہ عورتیں جو تمہارے اثر کے نیچے ہیں الصلحت ہوں ، قنتت ہوں، حفظت لِلْغَيْبِ ہوں۔اگر تمہارے اثر کے نیچے آنے والی عورت صالحہ نہیں۔اگر وہ قامتہ نہیں۔اگر وہ غیب کی حفاظت کرنے والی نہیں تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ تم پر جو قوام کی ذمہ داری عائد کی گئی تھی ، تم نے اسے نبھایا نہیں اور اس کے لئے تم ہمارے سامنے جواب دہ ہو گے۔اس لئے ڈرتے ڈرتے اور بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی زندگی کو گزارو تا اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہو اور اس کی نعمتوں اور اس کے فضلوں اور اس کی برکات کو حاصل کرنے والے ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر کے ان تمام برکات اور نعمتوں کا وارث بنائے جن کا تعلق قرآن کریم کے ساتھ اور اس کی تعلیم کے ساتھ ہے۔خطبات ناصر جلد دهم صفحه ۲۸۹ تا ۲۹۱) b آیت ۵۱،۵۰ اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُونَ أَنْفُسَهُمْ ، بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا أَنْظُرُ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَ كَفَى بِهِ اثْمًا مُبِينًا کیا تجھے ان لوگوں کا حال معلوم نہیں جو اپنے آپ کو پاک قرار دیتے ہیں۔ان کا یہ حق نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ جسے پسند کرتا ہے اسے پاک قرار دیتا ہے۔وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُنظُرُ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ کہ دیکھ وہ کس طرح اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں۔جب وہ کسی کو پاک اور مطہر قرار دیتے ہیں تو اس کا تو مطلب یہ ہے نا کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پاک اور مطہر ہے وہ۔خدا تعالیٰ کہتا ہے دیکھو۔وہ کس طرح خدا پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اور یہ و کفی پہ إثْمًا مبيناً کھلا کھلا گناہ ہے۔ایک دوسرے کو یا اپنے آپ کو متقی اور پر ہیز گار قرار دینا ، خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا اللہ مبین ہے، ایک ایسا گناہ کرنا ہے جو چھپی ہوئی بات نہیں، کھلی بات ہے۔اس و دو واسطے کہ پاک اور متقی کے معنی ہی یہ ہیں کہ جو خدا کی نگاہ میں پاک اور متقی ہو۔پاک اور متقی کے معنی اسلامی تعلیم کی رو سے یہ نہیں کہ کوئی جماعت کسی دوسری جماعت کو پاک اور متقی قرار دے دے۔