انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 555
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة النساء ج بِمَا حَفِظَ اللهُ ۖ وَ الَّتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا ویسے تو قرآن کریم کی آیات کے بے شمار معانی ہوتے ہیں لیکن اس آیہ کریمہ میں لفظ قوام کے یہ معنے نہیں ہیں جیسا کہ بعض بیوقوف لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمیں اختیار دے دیا گیا ہے کہ جس طرح مرضی بیویوں سے سلوک کریں۔یہ غلط ہے دراصل اس رشتہ کو قائم رکھنے کی ذمہ واری خاوند پر ڈالی ہے یعنی بیوی کا قیام جسمانی لحاظ سے اس کا قیام ذہنی لحاظ سے اس کا قیام اخلاقی لحاظ سے اس کا قیام روحانی لحاظ سے خاوند کے ذمہ ہے بالفاظ دیگر ایک کنوارہ آدمی غلطی کرتا ہے تو اس اکیلے پر ذمہ واری ہے۔ایک کنواری بچی سے غلطی ہو جائے تو اس لڑکی پر ذمہ واری ہے کسی مرد پر ذمہ واری نہیں ہے۔لیکن اگر ایک بیاہی ہوئی بچی سے کوئی غلطی ہو جائے تو دو پر اس کی ذمہ واری عائد ہوتی ہے۔ایک لڑکی پر اور دوسرے اس کے خاوند پر اس کا کام تھا کہ دونوں اس طرح یک جان ہو جائیں کہ وہ اس قسم کی غلطی نہ کر سکے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ بعض لوگ اس آیت کے یہ معنے کرنے لگ جاتے ہیں کہ انہیں عورتوں پر سختی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔اسلام نے کوئی سختی کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ (ابن ماجه ابواب النکاح) خدا کی نگاہ میں تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا ہے اور حسن سلوک کرتا ہے اور اہل کے تعلق میں جو ذمہ واریاں ہیں انہیں ادا کرتا ہے دوسرے بیوی سے کہا کہ تم مرد کا لباس ہو۔خاوند سے کہا بیوی تمہاری زینت کا باعث ہے۔اسلامی معاشرہ میں بہت ساری چیزیں ہیں جو عورت اگر کرے تو خاوند کی زینت کا بھی باعث ہیں مثلاً پردہ بھی کرے اور اپنی ذمہ واریاں بھی نبا ہے۔ایک مسلمان عورت بز دل اور کم ہمت نہیں ہوا کرتی۔(خطبات ناصر جلد و هم صفحه ۴۶۰،۴۵۹) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہم نے مرد کو عورت کا نگران