انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 548 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 548

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴۸ سورة النساء اور تمہارا رب تم سے راضی ہو جائے اور اس کی نظر میں تم ایسے بن جاؤ کہ کبھی تم سے گناہ سرزد ہی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ فَأُولبِكَ يَتُوبُ اللهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تو بہ کس طرح اور کن لوگوں کی اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہوتی ہے اور وہ کون لوگ ہیں کہ جن کی تو بہ ان کے منہ پر ماری جاتی ہے۔یہ تو ایک مثال ہے جو اشارہ میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ورنہ قرآن کریم بھرا پڑا ہے ایسی آیات سے جن سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ توبہ کا طریق کیا ہے، وہ کون لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفت قابلِ الثّوبِ کو اپنے حسن عمل سے خدا تعالیٰ اور قرآن مجید کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق جوش میں لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو توبہ قبول کرنے والا ہے ان لوگوں کیلئے تو بہ کے دروازے کھول دیتا ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۳۳۶،۳۳۵) آیت ۲۴ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ وَبَنْتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمْتُكُمْ وَ خلتكم وَبَنْتُ الْآخِ وَ بَنْتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهُتُكُمُ الَّتى اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَواتُكم مِنَ الرَّضَاعَةِ وَ أمَّهُتُ نِسَا بِكُمْ وَ رَبَّابُكُمُ التِي فِي حُجُورِكُم مِّنْ نِّسَا بِكُمُ الَّتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَابِلُ ابْنَا بِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَ أَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَد سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا ز لا (۲۴) جنسی تعلقات کے اوپر آداب کے لحاظ سے جو پابندی لگائی گئی ہے۔عرب میں لوگ ماں سے شادی کرنے کو جائز سمجھتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم کی وحی کے نتیجہ میں حُزمَتُ عليكم أمهتكم آپ میں سے کئی یہ آیت پڑھتے ہوں گے تو کہتے ہوں گے کیا انسان اپنی ماں سے بھی شادی کر سکتا ہے؟ لیکن عرب شادی کر رہا تھا اس لئے یہ کہنے کی ضرورت پڑی حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أمهتكم وحشی عرب ماں سے نکاح کو جائز قرار دیتا ہے اس لئے ایک ہم تمہیں یہ کہتے ہیں کہ اگر تم نے