انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 549
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴۹ سورة النساء انسان بننا ہے تو ماں سے شادی نہیں کرو گے۔نکاح کے سلسلہ میں اور بہت سارے قرآن کریم کے آداب سکھائے۔یہ تو پرانے زمانے کی باتیں تھیں۔چنانچہ اس زمانہ میں ایک کتاب میں لکھا ہوا جب میں نے پڑھا تو میں حیران ہو گیا کہ عقلاً اس بات پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنی ماں سے تعلقات رکھے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ یہ تو انسانیت کے خلاف ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے قرآن کریم کے صریح حکم کے خلاف ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حُرِّمَتْ عَلَيْكُم امهتكم اس صریح حکم کے بعد اس قسم کے حوالے نظر آ جاتے ہیں اس دنیا میں جس میں میں اور آپ ( خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۱۳۹،۱۳۸) رہ رہے ہیں۔ج آیت ۲۹ يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفان اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کو ضعیف پیدا کیا گیا ہے۔ضعیف اس معنے میں کہ خدا تعالیٰ نے جہاں اس کو نیکی کی بہت سی قوتیں اور طاقتیں عطا کی ہیں وہاں اس کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ ان راہوں کو چھوڑ کر جو اس کے رب کی طرف لے جانے والی ہیں، ان راہوں کو اختیار کرے جن پر چل کر شیطان لعین سے وہ اپنا تعلق قائم کر لیتا ہے اور ضعیف اس معنی میں بھی کہ غیر محدود انعامات اس کے سامنے رکھے اور محدود عمل سے زیادہ کی اسے طاقت نہیں دی۔کمزور ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ وہ تمہارے بوجھ ہلکے کرے۔تمہارے لئے آسانی پیدا کرے۔اسلامی شریعت کا گہرا مطالعہ ہمیں اس حقیقت کی طرف لے جاتا ہے اور اس صداقت پر قائم کرتا ہے کہ ہر حکم شریعت اسلامیہ کا ایسا حکم ہے جس میں آسانی کے پہلو کو مد نظر رکھا گیا ہے۔اس وقت میں نے تین چار باتیں اصولی جو ہیں ان کو منتخب کیا ہے اس وقت کے خطبہ کے لئے۔ایک یہ کہ انسان میں جو قوت اور طاقت ہے وہ اپنے نفس میں ایسی نہیں جو اسے خدا تعالیٰ تک پہنچا دیتی۔انسان کی ساری نیکی کی طاقتیں بھی اس کے لئے بدی بن سکتی ہیں۔اس میں کبر پیدا کر کے، اُس میں نخوت پیدا کر کے، اس میں ریا پیدا کر کے، اس میں جذ بہ نمائش پیدا کر کے، اس میں اپنے نفس کی پوجا کر کے اور پرستش کے جذبات پیدا کر کے، اس کی نیکیاں جو ہیں ان کے اندر وہ خود شرک