انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 546
سورة النساء تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث فرمایا کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ (ترمذی ابواب المناقب)۔اگر تمہارے اپنے اہل کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے اچھا برتاؤ ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی تم اچھے بنو گے اور جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم انسان کو ملتا ہے شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ انسان اس حکم پر عمل نہ کرے۔اس مقصد کو حاصل نہ کرے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسے حاصل ہو۔ان ترقیات تک نہ پہنچے جہاں اللہ تعالیٰ اسے پہنچانا چاہتا ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ ازدواجی تعلقات میں شیطانی رخنوں کا واقع ہو جانا بھی ممکن ہے۔اس لئے جب تمہیں اس قسم کی الجھنیں پیدا ہوں تو تم اِتَّقُوا رَبَّكُمُ اسی کو اپنی ڈھال بناؤ جس نے خود کو تمہارا رب بنایا ہے۔رب ہونے کی ذمہ داری اس پر ہے۔اگر تم اپنے خدا کو ، اپنے اللہ کو، اپنے رب کو ، اپنے خالق کو اپنی ڈھال بناؤ گے اور اس کے احکام کو توڑو گے نہیں اور گناہ سے اور معصیت سے اس لئے بچو گے کہ وہ تم سے راضی ہو جائے تو پھر تم شیطانی وسوسوں اور شیطانی رخنوں اور شیطانی حملوں سے محفوظ ہو جاؤ گے کیونکہ وہ تمہارا خالق ہے وہ تمہارا رب ہے اور وہی جانتا ہے کہ تم کس قسم کی استعداد میں اور قوتیں رکھتے ہو اور تم کس حد تک بلندیوں کو حاصل کر سکتے ہو۔اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک موقع پر کہا اور اس کو قرآن کریم نے نقل کیا تا کہ ہمارے لئے وہ ہدایت کا موجب بنے اور وہ یہ کہ الَّذِی خَلَقَنى فَهُوَ يَهْدِينِ (الشعراء: ۷۹) اور اس میں یہ مضمون بیان کیا کہ خالق ہی بتا سکتا ہے کہ کتنی طاقت اور قوت کسی چیز میں ہے۔موٹی مثال اس کی ہے۔لاریاں چلتی ہیں ہر روز اس پر چڑھتے ہیں موٹریں ہیں موٹر بنانے والے نے اس پر لکھا ہوا ہے کہ اس سے زیادہ تیز رفتار سے یہ موٹر نہیں چلے گی اگر لکھا نہ ہوتو پھر نا واقف انسان یہ نہیں کہ سکتا کہ کتنی تیز رفتار سے یہ موٹر چل سکتی ہے۔انسان کو جس نے پیدا کیا وہی بتا سکتا ہے کہ اس میں کیا کچھ وو - خطبات ناصر، جلد دهم صفحه ۳۴۵،۳۴۴) رکھا گیا ہے۔يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ۔یہاں آیت میں اِتَّقُوا اللهَ رَبِّكُم بھی ہے اور بہت سے کشیکسٹ (Context) میں تقویٰ کا ذکر ہے لیکن اس آیت میں جونکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہے رب کا تقوی۔اور یہ رب کا تقویٰ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔تم دونوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔اسی طرح تم پر بھی ربوبیت کی ذمہ داریاں کچھ نئی پڑنے والی ہیں اور اسی صورت میں تم ادا کر سکو گے جب تم حقیقی رب ، اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو گے۔(خطبات ناصر، جلد دہم صفحہ ۷۱)