انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 545 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 545

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ ۵۴۵ سورة النساء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النِّسَاء آیت ۱ تا ۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ياَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِى تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًان b قرآن کریم کی تین آیات عام طور پر خطبہ نکاح کے وقت پڑھی جاتی ہیں۔پہلی آیت جو پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہے۔يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ - اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ہمارا اللہ ہمارا رب ہے۔ربوبیت کی صحیح اور حقیقی ذمہ داری اس نے اپنے پر لی ہے۔رب کے معنی ہیں پیدا کرنے والا۔پیدائش کے بعد جو قو تیں اور استعداد یں اس نے مخلوق میں رکھی ہوں ان کے مطابق نشو و نما کے سامان پیدا کرنے والا نشو نما کی توفیق دینے والا تا کہ اس کی مخلوق وہ حاصل کر لے جو اس نے اپنی مخلوق کے لئے مقرر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت ہی ترقیات کے لئے پیدا کیا ہے۔جسمانی بھی اور روحانی بھی اور اللہ تعالی یہاں یہ فرماتا ہے کہ میں نے اس ربوبیت کے نظام میں ازدواجی تعلقات بھی رکھتے ہیں۔ان ازدواجی تعلقات کے نتیجہ میں اگر تم خدا کی باتیں مانو د نیا کے رسم و رواج نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں درجہ بدرجہ ترقی دے کر ان مقامات تک تمہیں لے جائے گا۔جن مقامات تک وہ تمہیں لے جانا چاہتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے