انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 544 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 544

تغییر حضرت خلیفة امسح الثالث ۵۴۴ سورة ال عمران خدا تعالیٰ نے جو اس جہان کو پیدا کیا اس عالمین کو پیدا کیا اس کے مختلف پہلوؤں پر جب انسان نظر رکھتا ہے تو اس نتیجے پر پہنچتا ہے اور کہتا ہے علی وجہ البصیرت کہتا ہے کہ میرے رب نے کسی چیز کو بے مقصد نہیں پیدا کیا - يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النّارِ - کہ تو پاک ذات ہے تو نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی۔مومنوں پر الہی سلسلوں پر جو ابتلا آتے ہیں وہ بھی بے مقصد نہیں وہ ان کو مارنے کیلئے اور ہلاک کرنے کے لئے تو نہیں آیا کرتے ، وہ ان کی شان ظاہر کرنے کے لئے وہ ان کی روحانی ترقیات کے لئے ، وہ خدا تعالیٰ کے پیار کے زیادہ حصول کے سامان پیدا کرنے کے لئے آیا کرتے ہیں۔وہ بے مقصد نہیں ہیں ان کا مقصد ہے اور بڑا عظیم مقصد ہے۔بڑا حسین مقصد ہے۔بڑا پیارا مقصد ہے۔مومن یہ سوچے گا کہ ایٹم کی طاقت بے مقصد نہیں ہے اور خدا تعالیٰ نے مقصد اصولی طور پر قرآن کریم میں یہ بتایا ہے کہ وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاليه (۱۴) که بلا استثنا ہر چیز کو انسان کی خدمت کے لئے : پیدا کیا گیا ہے۔ایٹم کی طاقت کا بھی یہی مقصد ہے لیکن جنہوں نے ایٹم کی طاقت کو نکالا وہ اس کا استعمال کچھ حد تک صحیح بھی کر رہے ہیں اور بہت حد تک غلط بھی کر رہے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ایسے مہلک ہتھیار بنا لئے ہیں۔ایک مومن کا دماغ کہے گا کہ ایٹم کا یہ مقصد تو نہیں کہ جو چیز انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے وہ اس کی گردن اڑا دے وہ تو انسان کے فائدے کے لئے ہی استعمال ہونی چاہیے۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۶۰)