انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 535 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 535

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۳۵ سورة ال عمران الاَنْهرُ : ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللهِ وَاللهُ عِنْدَهُ حُسنُ الثَّوَابِ۔(194) آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں عقلمندوں کے لئے یقیناً کئی نشانات ہیں۔وہ عظمند جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے بارہ میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو نے اس عالم کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا۔تو ایسے بے مقصد کام کرنے سے پاک ہے۔پس تو ہمیں ا ، آگ کے عذاب سے بچا اور ہماری زندگی کو بے مقصد بننے سے بچالے۔اے ہمارے رب جسے تو آگ میں داخل کرے گا اسے تو تو نے یقیناً ذلیل کر دیا اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا۔اے ہمارے رب ہم نے یقیناً ایک ایسے پکارنے والے کی آواز جو ایمان دینے کے لئے بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، سنی ہے پس ہم ایمان لے آئے اس لئے اے ہمارے ربّ! تو ہمارے قصور معاف کر اور ہماری بدیاں ہم سے مٹادے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ ملا کر وفات دے۔اور اے ہمارے رب! ہمیں وہ کچھ دے جس کا تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر ہم سے وعدہ کیا ہے اور قیامت کے دن ہمیں ذلیل نہ کرنا تو اپنے وعدہ کے خلاف ہر گز نہیں کرتا۔( ہم سے گناہ ہو جاتے ہیں ہمیں گناہوں سے بچا ) چنانچہ ان کے رب نے یہ کہتے ہوئے ان کی دعا سن لی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کروں گا۔تم ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے ہو۔پس جنہوں نے ہجرت کی اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا اور میری راہ میں تکالیف دی گئیں اور انہوں نے جب دفاعی جنگیں کیں اور اپنی جانیں خدا کی راہ میں قربان کیں اور مارے گئے۔میں ان کی بدیوں کے اثر کو ان کے جسم سے یقیناً مٹا دوں گا اور میں انہیں یقیناً ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔یہ انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدلہ کے طور پر ملے گا اور اللہ تعالیٰ تو وہ ہے جس کے پاس بہترین جزا ہے۔ان آیات میں ایک لمبا مضمون بیان ہوا ہے لیکن میں نے اس مضمون کا ایک حصہ آج کے خطبہ کے لئے منتخب کیا ہے۔ویسے اس کی بھی شاید تفصیل میں میں نہ جا سکوں کیونکہ صبح سے پیٹ میں تکلیف کی وجہ سے مجھے ضعف کی شکایت ہے۔