انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 534
۵۳۴ سورة ال عمران تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ظاہری آنکھ کو نظر نہ آئے تو وہ مخالفت پیدا ہو گئی اور پھر اس نے یہ چاہا کہ اس کے باوجود جو کچھ ظاہری آنکھ نے دیکھا تھا وہ نہیں ہوگا اور مہدی نا کام نہیں ہوگا۔مہدی کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہے جیسا کہ خلافت راشدہ کے زمانہ میں مختلف میدانوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی جھنڈے تھے۔کسری کے مقابلہ میں مسلمان فوجوں کے جو سپہ سالار تھے ان کے ہاتھوں میں جو جھنڈے تھے یا قیصر کے مقابلہ میں شام کے میدانوں میں مسلمانوں کے سپہ سالاروں کے ہاتھوں میں جو جھنڈے تھے وہ ان کے اپنے تو نہیں تھے اور نہ خلفائے وقت کے تھے بلکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تھے۔اسی طرح آج اسی معنی میں محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا جھنڈا مہدی کے ہاتھ میں ہے۔خدا نے یہ چاہا کہ دنیا کی طاقتوں کو اس کے خلاف کھڑا کرے اور دنیا کو یہ بتائے کہ اگر تم سارے اکٹھے ہو کر بھی میری اس سکیم اور میرے اس منصو بہ کو نا کام کرنے کی کوشش کرو گے تو تم ناکام ہی ہو گے۔خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۴۱۱۳۴۰۹) آیت ۱۹۱ تا ۱۹۶ اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لايت لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبُحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارِ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَا رَبَّنَا فَاغْفِرُ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ رَبَّنَا وَ اتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا (۱۹۴ 191 (190) تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اني لَا أَضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُم مِّنْ ج بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ أَخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ أَوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَتَلُوا وَ قتِلُوا لَا كَفَرَنَ عَنْهُمْ سَيَأْتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا