انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 48 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 48

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۸ سورة الفاتحة کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے جو اُسوہ حسنہ رکھا ہے اپنے دائرہ استعداد میں اس کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اندر صفات باری کے مظہر بنیں گے اور دُنیا کو حسن و احسان کے جلوے دکھا ئیں گے تو ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر لیں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔آپ کے نقش قدم پر چلنا انسان کو خدا کا محبوب بنا دیتا ہے )۔جب ایک انسان کچے دل سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اور آپ کی تمام عظمت اور بزرگی کو مان کر پورے صدق وصفا اور محبت اور اطاعت سے آپ کی پیروی کرتا ہے یہاں تک کہ کامل اطاعت کی وجہ فنا کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔تب اس تعلق شدید کی وجہ سے جو آپ کے ساتھ ہو جاتا ہے۔وہ الہی نور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا ہے۔اس سے یہ شخص بھی حصہ لیتا ہے اور اس کے ہر ایک عضو میں سے محبت الہی کا نور چمک اُٹھتا ہے تب اندرونی ظلمت بکلی دور ہو جاتی ہے۔علمی رنگ سے بھی اس میں نور پیدا ہو جاتا ہے اور عملی رنگ سے بھی نور پیدا ہو جاتا ہے۔“ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۸۱ ) جماعت احمدیہ میں داخل ہونے والوں کا پہلا فرض یہی ہے کہ یہ چاروں صفتیں اپنے اندر بھی قائم کرے کیونکہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا یہی تقاضا ہے کیونکہ خدا کی ربوبیت یعنی نوع انسان اور نیز غیر انسان کا مربی بنا اور ادنیٰ سے ادنیٰ جانور کو بھی اپنی مربیانہ سیرت سے بہرہ نہ رکھنا ایک ایسا امر ہے کہ اللہ کی سچی عبادت کرنے والا کمال محبت سے اس الہی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے اور خود بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر پیدا کرتا اور اپنے اندر پیدا ہے تا اپنے محب کے رنگ میں آجائے۔“ گویا اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا مظہر بنے کا جوحکم دیا اس کو یاد دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے اندر صفت ربوبیت پیدا کریں اور اس کے نتیجہ میں انسان اور غیر انسان کے مربی بننے کی کوشش کریں۔یعنی انسان تو کیا جانوروں کو بھی اپنی مربیانہ صفت سے بے بہرہ نہ رکھیں۔ہمارے جماعتی پروگرام اس نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے جاتے ہیں۔دنیا دیکھتی 66