انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 47
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۴۷ سورة الفاتحة یہ نکتہ اور یہ مسئلہ بڑا اہم ہے کہ گو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان صفات کا مظہر اتم بنایا گیا مگر خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بت بنالو اور ان کی پوجا کرنے لگو۔بلکہ خدا نے یہ فرمایا کہ میرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے اتنے قریب آ گیا ہے کہ کوئی طاقت اتنی قریب نہیں آسکتی یہ صرف صرف میرے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو حاصل ہوا ہے اس نے انسانی طاقتوں کے لحاظ سے جتنا قرب حاصل کیا جا سکتا تھا اُس نے اتنا قرب حاصل کر لیا ہے۔اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہیں۔ہم بھی اپنی اپنی طاقت کے مطابق تقرب الہی حاصل کر سکتے ہیں۔غرض پہلی بات یہ تھی کہ اپنی قوتوں کی نشوونما کو کمال تک پہنچاؤ۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وس کے اُسوہ حسنہ کو مد نظر رکھو۔دوسرے یہ کہ انسان کو تمام قو تیں اور طاقتیں صفات باری تعالیٰ کا مظہر بننے کے لئے دی گئی ہیں۔تیسرے یہ کہ انسان کے صفات باری کا مظہر بننے کی علامت یہ ہے کہ اس کے وجود میں بھی حسن و احسان کے جلوے نظر آنے لگیں۔کیونکہ خود صفات باری میں بھی ایک جلوہ حسن کا اور دوسرا احسان کا نظر آتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ایک جلوہ حسن کا اور دوسرا احسان کا نظر آتا ہے۔جس طرح خدا نور ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ٹو ر کہا گیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے مظہر اتم ہونے کے لحاظ سے اور لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاك (موضوعات كبير حرف اللام) کے بلند ترین شرف سے مشرف ہونے کی وجہ سے اس سارے جہان کا نور ہیں۔آپ خالق اور مخلوق کے درمیان ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔اُسوۂ نبوی کا تیسرا بنیادی نکتہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات اور اُن کے مظہر اتم کی صفات کے جلوؤں میں ایک پہلوحسن کا ہے اور دوسرا احسان کا ہے۔اس لئے تمہارے اندر بھی اپنے اپنے دائرہ استعداد کے لحاظ سے حسن و احسان کے جلوے ظاہر ہونے چاہئیں اور اس غرض سے جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے۔قرآن کریم نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور فرمانبرداری کا حکم دیا ہے اور ہم سے اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) کی رُو سے وعدہ کیا گیا ہے