انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 533 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 533

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالثة ۵۳۳ سورة ال عمران کے لئے اپنی کمزوریوں کے باوجود کھڑی ہو جاتی ہے۔وہ جو کچھ خدا کے حضور پیش کرتے ہیں ان کے او پر بھی وہ اتراتے نہیں اور فخر نہیں کرتے اور جو کام انہوں نے نہیں کیا ہوتا اس کے متعلق تو شیخی مارنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کے قہر کے عذاب سے محفوظ ہیں لیکن ان کا مد مقابل اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہے اور قرآن کریم کی بشارتوں کے مطابق جو مسلمانوں کے حق میں دی گئی ہیں اور قرآن کریم کے اندار کے مطابق جو معاندین اسلام کے متعلق دیا گیا ہے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اپنے پر بھروسہ کرنے والے اور جو طاقت نہیں ہے اس کا بھی اعلان کرنے والے کامیاب نہیں ہوا کرتے۔اخبار میں پڑھنے والے اور دنیا کے حالات کا علم رکھنے والے دوست جانتے ہیں کہ آجکل سیاسی لیڈر وہ تعلیاں مارتے رہتے ہیں کہ آدمی حیران ہوتا ہے مثلاً ہٹلر نے اپنے وقت وہ شور مچایا تھا کہ بس اس کے پاس ایسی طاقت ہے اور ایسے مخفی ہتھیار ہیں کہ وہ ساری دنیا کو کھا جائے گا حالانکہ وہ ہتھیار نکلے نہیں۔وہ يُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا کے آیت کے ٹکڑے کے نیچے آ گیا نا کہ وہ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ وہ ایسے ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو دنیا کو زیر کرنے کے لئے کافی ہیں اور ان کا مد مقابل کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔دنیا جو کرتی ہے اور دنیا جو نہیں کرتی اس کا یہاں ذکر ہے جو وہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ جو ان کی طاقت ہے اس پر وہ فخر کرنے لگتے ہیں اور تکبر سے کام لیتے ہیں اور اپنے مفاد کی خاطر انسانوں کے حقوق کو پامال کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا اور دوسروں کو ڈرانے کے لئے وہ بڑے مبالغہ آمیز بیانات دیتے ہیں یا بعض دفعہ اپنے ملک کو خوش کرنے کے لئے بھی سیاسی لیڈر ایسا کرتے ہیں۔فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ یہ لوگ ناکامی کے عذاب سے محفوظ نہیں رہ سکتے اور جولوگ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والے ہیں اور خدا تعالیٰ کی جماعت ہیں وہی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کامیاب ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ تمام قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے وہ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر ہے جس چیز کو چاہے اسے کر دیا کرتا ہے اور کوئی اسے نا کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے اور اس کے منشا کے مطابق ہر کام ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اسلام کے غلبہ کے لئے اس زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا محبوب ترین روحانی فرزند مهدی پیدا ہو تو مہدی پیدا ہو گیا۔اس نے چاہا کہ اس مہدی کی اس ظاہری اور ماڈی دنیا میں اس قدر مخالفت ہو کہ اس کی کامیابی کا کوئی امکان