انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 532
۵۳۲ سورة ال عمران تغییر حضرت خلیفة امسح الثالث بغیر ان کی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتی تھیں (ان دنوں جو یہود عرب میں آباد تھے وہ عربوں کو قرض دیا کرتے تھے ) غرض انکے دلوں میں یہ دیکھ کر جلن پیدا ہوتی تھی کہ یہ بہت تھوڑے عرصہ میں یعنی چند سال کے اندر اندر اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو قبول کر کے اس قسم کے نتائج نکالے ہیں کہ ساری دنیا کی دولت ان کے قدموں پر لا ڈالی ہے۔دو خطبات ناصر جلد ۲ صفحه ۳۳۸ تا ۳۴۰) آیت ۱۹۰،۱۸۹ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا آتَوُا وَ يُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيم وَلِلّهِ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُه اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقین رکھو کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ نہیں ہیں جو اپنے کئے پر اتراتے ہیں۔یہ کئے پر اترانے والے دنیا دار بھی ہوتے ہیں اور مذہب کے نام پر اترانے والے بھی ہوتے ہیں۔مذہبی گروہ اپنے جتھے پر اترانے لگ جاتے ہیں اپنے مال و دولت پر اترانے لگ جاتے ہیں، اپنی طاقت پر اترانے لگ جاتے ہیں، اپنی تنظیم پر اترانے لگ جاتے ہیں، اپنی فوجوں پر اترانے لگ جاتے ہیں۔ہزاروں وجوہ ہیں اترانے کی۔کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی فوج کو اتنا مضبوط کر لیا، ہم نے اپنے نظام اقتصادیات کو ایسا بنالیا، ہماری زراعت ایسی ہوگئی ، ہم نے پانی کا یہ انتظام کر لیا، ہم نے ایٹم بم بنا لیا۔(پہلے تو یہ مذہبی گروہ نے ہی بنایا تھا یعنی عیسائی دنیا نے جو کہ کیپٹلسٹ کہ (Capitalist) کہلاتے ہیں ) جو لوگ اپنے کئے پر اتراتے ہیں اور صرف اپنی ذات یا اپنے جتھے یا اپنی قوم یا اپنے ملک پر بھروسہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا زندہ تعلق نہیں ہوتا کہ جس کی طاقت پر وہ بھروسہ کرنے والے ہوں اور پھر انہوں نے جو کام نہیں کیا ہوتا وہ سمجھتے ہیں کہ اس پر بھی ان کی تعریف کی جائے حالانکہ انہوں نے کام نہیں کیا ہوتا لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا آتَوا وَ يُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ یہ نہ سمجھو کہ وہ خدا کے عذاب سے محفوظ ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے لیکن وہ گروہ اور وہ جماعت جو اللہ کا نام لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو بلند کرنے کے لئے اور اسلامی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے