انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 529
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۲۹ سورة ال عمران خدا تعالیٰ کا علم انسانوں کی تکمیل کے لئے اپنے اندر ایک کامل طاقت رکھتا ہے اس لئے یہ کتاب متقین کے لئے ایک کامل ہدایت ہے اور ان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جو انسانی فطرت کی ترقیات کے لئے آخری مقام ہے (جہاں تک پہلے کوئی نہیں پہنچا ) (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۳۶) تو یہ تیسری عظیم چیز جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے وہ الکتاب ہے جیسا کہ فرمایا وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة - اور چوتھی چیز جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے وہ ہے حکمت۔اور حکمت کے معنی ہیں حقیقت کتاب اور حقیقت رسالت یعنی قرآن کریم کی اصطلاح کی رو سے جو اس کتاب کی حقیقت ہے اور جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی عظمت ہے اس کے دلائل پیش کرنا حکمت کے معنی میں شامل ہے۔خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۱۸ تا ۲۲۶) ص آیت ١۷۶ اِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطنُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَاءَةَ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَ خَافُونِ اِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ ® شیطان اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے۔جو لوگ شیطان کے دوست بن جاتے ہیں اور خدا کے دوست نہیں رہتے ان کے دل میں شیطان خوف پیدا کرتا ہے کہتا ہے دیکھو! دولت چلی گئی تو پھر پتہ نہیں تمہیں ملے یا نہ ملے اور وہ بیوقوف یہ نہیں سمجھتا کہ پہلے جو دولت آئی تھی وہ شیطان نے تو نہیں دی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس دولت کو پیدا کیا۔اور ان طاقتوں کو بھی پیدا کیا جن کی بدولت اسے وہ دولت ملی۔اس کا اپنا تو کچھ نہیں۔اسی طرح جو شخص صاحب اقتدار بن جاتا ہے سیاسی میدان میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہ کہتا ہے اگر میں انصاف کروں تو شاید میرا اقتدار جاتا رہے کیونکہ صاحب اقتدارلوگوں سے بے انصافی کے تقاضے بھی کئے جاتے ہیں۔ان سے ظلم کے تقاضے بھی کئے جاتے ہیں۔آخر شیطان کو قیامت تک جو مہلت دی گئی ہے تو اس کا یہی مطلب تھا کہ شیطان کو قیامت تک دوست ملتے رہیں گے جن کو وہ ڈراتا اور خوف دلاتا رہے گا۔چنانچہ مطالبہ ہوتا ہے کہ فلاں حصہ ملک پر یا فلاں جماعت پر یا فلاں گروہ