انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 528
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالثة ۵۲۸ سورة ال عمران ہو جائیں تو ان کے ذریعہ سے انسان طہارت اور پاکیزگی خدا تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے۔حقیقی ، مز کی جو ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لیکن مختلف معانی میں بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا گیا ہے کہ آپ پاک کرتے ہیں، کبھی احکام کے متعلق یعنی قرآن کریم کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ تعلیم پاک کرتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ حکم دیا ہے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ (النجم : ٣٣) اپنے آپ کو پاک مت ٹھہرایا کرو۔خوف اور خطرے کا مقام ہے کہ انسان اپنے آپ کو پاک قرار دے۔اسی لئے خود کو پاکباز ٹھہرانے کی مذمت کی گئی ہے۔مفردات راغب میں بھی یہ لکھا ہے۔فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ اس کے انہوں نے دو پہلو لئے ہیں کہ ایسا کرنا مذموم ہے اور یہ کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔دونوں چیزیں اس کے اندر آجاتی ہیں۔تو دو عظیم رحمتیں ، رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ ، اُمتِ مسلمہ کے لئے نوع انسانی کے لئے عموماً اور جماعت مومنین کے لئے خصوصاً لے کر آئے جنہوں نے ان سے فائدہ اٹھایا۔تیسری عظیم چیز آپ لے کے آئے الکتاب۔قرآن کریم کو قرآن کریم میں الکتاب کہا گیا ہے اور الکتاب کے شروع میں ہی ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة :٣) کی آیت الکتاب کے صحیح اور پورے معنی بتا رہی ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ میں جو خدائے عالم الغیب ہوں ، اس کتاب کو اتارنے والا ہوں تو اس کا سورس Source ) اور منبع جو ہے وہ عالم الغیب خدا کی ذات ہے یہ وہ کتاب ہے جس نے خدا تعالیٰ کے علم سے خلعت وجود پہنا۔اس لئے یہ کتاب ہر ایک غلطی اور شک وشبہ سے پاک ہے اور اس لئے یہ کتاب کامل متقیوں کے لئے بھی ہدایت ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانی فطرت تدریجی ترقی کرتی ہے، جسمانی نشوونما میں بھی ، اخلاقی نشوونما میں بھی اور روحانی نشونما میں بھی۔تو ایک متقی جو ہدایت کی راہوں پر چل کے خواہ کتنا ہی بلند ہو جائے ، مزید بلندیوں کے دروازے اس پر اس عظیم کتاب کے ذریعہ سے کھولے جاتے ہیں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک فقرے میں اس سارے مفہوم کو بڑی خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔یہ وہ کتاب ہے جو خدا تعالیٰ کے علم سے ظہور پذیر ہوئی ہے اور چونکہ اس کا علم جہل اور نسیان سے پاک ہے اس لئے یہ کتاب ہر ایک شک وشبہ سے خالی ہے اور چونکہ "