انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 46
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۶ سورة الفاتحة یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔اس وقت تک اہلِ مکہ یہ سمجھ چکے تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کے بھی مظہر اتم ہیں۔چنانچہ اس فتح عظیم کے دن جب کہ اہل مکہ کی قسمتوں کا فیصلہ ہو چکا تھا۔آپ نے ان سے فرمایا کہ جاؤ تمہیں معاف کیا اور معاف بھی کیا تو اس رنگ میں کیا کہ کہا میں تمہارے پاس نہیں ٹھہرتا کیونکہ اس سے میری اس صفت میں فرق آتا ہے۔آپ اور آپ کے صحابہ کی جائیداد میں آپ کے وہ مکانات اور حویلیاں جو مکہ اور اس کے گردو نواح میں چھوڑی تھیں وہ آپ نے واپس نہیں لیں۔آپ نے فرمایا میں خدا کا پیغام لے کر تمہاری طرف آیا تھا۔تم نے مجھے قبول نہیں کیا اور تم نے ہماری جائیدادوں پر قبضہ کر لیا اور ہمیں مکہ سے باہر نکال دیا۔اب میں خدا کی صفتِ مالکیت کا مظہر اتم ہونے کی حیثیت میں تمہارے پاس آیا ہوں۔یہ جائیدادیں یہ مال و متاع یہ کوٹھیاں یہ حویلیاں سب تمہیں دیتا ہوں۔یعنی مالک ہونے کے لحاظ سے یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ کسی چیز کا بھی تم سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔جاؤ خدا کی فوج میں داخل ہو جاؤ اور خدا کی نعمتوں پر شکر بجالاؤ۔پس قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاروں ام الصفات کے کامل اور اتم طور پر مظہر ہیں۔یہ چاروں صفات وہ ہیں جس کا بیان ہمیں سورۃ فاتحہ میں نظر آتا ہے۔ایک حدیث بھی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے لوائے حمد عطا کیا گیا ہے اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ آپ نے صفات باری کے مظہر اتم تھے جو بنیادی طور پر سورہ حمد میں پائی جاتی ہیں۔اُن کا آپ کو جھنڈ ا عطا کیا گیا ہے۔میں نے وقت کی مناسبت سے چھوٹی چھوٹی مثالیں دی ہیں۔قرآن کریم نے سورہ حمد میں اللہ تعالیٰ کی چار بنیادی صفات بیان کی ہیں۔جنہیں اُم الصفات یا اصل الاصول کہہ سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری صفات کے مظہر اتم ہیں۔تمہیں ہر صفت کے متعلق تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں۔میری بنیادی صفات ہیں اُن کے آپؐ مظہر اتم ہیں۔تم دیکھ لو۔آپ رحمتہ للعالمین ہیں۔آپ کی زندگی میں رحمانیت کے جلوے نظر آتے ہیں۔آپ کی زندگی میں رحیمیت اور مالکیت کے جلوے کامل طور پر نظر آتے ہیں ایسے جلوے نہ کسی نے پہلے دکھائے اور نہ کوئی آئندہ دکھا سکتا ہے۔کیونکہ نہ پہلوں کو وہ استعداد ملی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اور نہ بعد میں آنے والوں کومل سکتی ہے۔