انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 510 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 510

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۱۰ سورة ال عمران راہنمائی کرتا ہے اور ہدایت کے رستوں کی نشان دہی کرتا ہے تو فی الامر کا فیصلہ کرنا کہ وہ کون سے اہم امور ہیں کہ جن کے متعلق مشورہ لینا ہے یہ بھی خلیفہ وقت کا کام ہے اس واسطے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم جو کہتے ہیں ان امور پر مشاورت میں بات ہونی چاہیے مشاورت کے سامنے وہی امر جائے گا جس کی اجازت خلیفہ وقت دے گا اور جس کے متعلق وہ سمجھے گا کہ مجھے جماعت کے اہل الرائے احباب سے مشورہ لینا چاہیے۔پھر فرمایا فَإِذَا عَزَمْتَ عزم کرنا اور فیصلے پر پہنچنا یہ بھی خلیفہ وقت کا کام ہے جماعت کا کام نہیں، مجلس شوری کا کام نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تو عزم کر لے فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ پھر مسلمانوں کا خیال بھی تو رکھنا ہے ان سے نرمی اور پیار کا سلوک بھی کرنا ہے اور ان کی تربیت بھی کرنی ہے لیکن یہ نہیں دیکھنا کہ نانوے فی صدی مشورہ دینے والوں کی اکثریت اس میرے فیصلے کے خلاف ہے کبھی کہیں کوئی خرابی پیدا نہ ہو جائے جب دیانتداری سے تم کسی فیصلہ پر پہنچو تو خدا کے سوا کسی اور پرنگاہ نہیں رکھنی فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ کیونکہ اسی میں کامیابی کا راز ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔مجلس شوری کوئی فیصلہ نہیں کرتی مجلس شوری خلیفہ وقت کے مطالبہ پر اپنا مشورہ پیش کرتی ہے پس مجلس مشاورت شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ کہ تو لوگوں سے مشورہ لے خلیفہ وقت لوگوں سے مشورہ مانگتا ہے اس پر لوگ مشورہ دیتے ہیں اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خلیفہ وقت فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی بات ہونی چاہیے اور کونسی نہیں“۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم کسی نتیجہ پر پہنچ جاؤ تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اور پختہ یقین پر قائم ہوتے اور رہتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے وہی ہماری مدد کرے تو ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اگر وہ ہمارا ساتھ چھوڑ دے تو ہم ناکامی کا منہ دیکھیں گے خدا پر توکل رکھتے ہوئے اپنے فیصلہ کو جاری کر دو اور فَإِذَا عَزَمت کے اوقات میں جب خلیفہ وقت اپنے فیصلے کا اعلان کرے مسلمانوں کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا۔فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ (محمد: ۲۲) کہ جب کسی کام کے کرنے کے متعلق خلیفہ (یہاں عزم جو کہا گیا ہے وہ دوسری جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوائے خلیفہ کے کسی نے عزم نہیں کرنا نبی کے بعد جب خلیفہ) کسی فیصلہ کو پہنچ جائے اور اپنے دل میں پختہ ارادہ کر لے کہ اگر یوں کیا جائے تو جماعت کو روحانی اور جسمانی فائدہ ہے اس لئے یوں کیا قف