انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 506
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالثة سورة ال عمران پر پہنچو اور پختہ ارادہ کرو کہ یوں ہونا چاہیے اور یوں نہیں ہونا چاہیے تو اس وقت کثرت کی طرف نظر نہ کرو۔فَتَوَكَّلْ عَلَی اللہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو اور یقین رکھو کہ حقیقتا وہی کارساز ہے کیونکہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر ہی تو کل رکھنے والے ہو گے تو تمہیں بشارت دی جاتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے اور مسلمانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غالِبَ لَكُمْ۔اگر اللہ تعالیٰ کسی کی مدد اور نصرت کرتا ہے اور اسے کامیاب کرنا چاہے تو کوئی طاقت دنیا کی ایسے گروہ اور جماعت کو اور اُمت کو مغلوب نہیں کر سکتی نہ قانون کر سکتا ہے لیکن اگر اللہ مدد چھوڑ دے فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ - تو کسی کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے تم کوئی کام کرو گے اور کامیابی کی امید رکھو گے۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ یعنی جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محض اللہ پر توکل رکھنے والے ہیں اسی طرح آپ کی سنت کی اور آپ کے اسوہ کی اتباع کرتے ہوئے مومنوں کا یہ فرض ہے کہ وہ بھی صرف اللہ ، صرف اللہ پر توکل کرنے والے ہوں۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے یہاں شاور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے ارشاد فرمایا ہے کہ ان سے مشورہ لیا کرو۔مشورہ لینے کا حق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے یا آپ کی نیابت میں آپ کے خلفاء کو اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ۱۹۳۰ ء کی شوریٰ میں یہ فرما یا تھا۔مشورہ لینے کا حق اسلام نے نبی کو اور اس کی نیابت میں خلیفہ کو دیا ہے مگر کوئی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ نبی یا خلیفہ کے سامنے تجاویز پیش کرنے کا حق دوسروں کے لئے رکھا گیا ہے“۔اسی طرح آپ نے فرمایا " مجلس شوری اپنی ذات میں کوئی حق نہیں رکھتی۔وہ میرے بلانے پر آتی اور آکر مشورہ دیتی ہے اور ہمیشہ خلیفہ کے بلانے پر آئے گی، اسے مشورہ دے گی وہ اپنی ذات میں کوئی حق نہیں رکھتی کہ مشورہ دئے۔تو شاور کے اول مخاطب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کی نیابت میں آپ کے خلفاء اس کے مخاطب ہیں تو مشورہ لینے کا حق نبی کو اور نیابت کے طور پر خلیفہ کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے پچھلے سال غالباً مجلس شوریٰ میں میں نے ایک اور زاویہ نگاہ سے بھی اس پر روشنی ڈالی تھی اور وہ یہ کہ اگر یہ سمجھا جائے کہ جماعت کا حق ہے خلیفہ وقت کا حق نہیں تو جس کا حق ہے اس کا یہ بھی حق ہوتا ہے کہ وہ اپنا حق چھوڑ دے اگر کسی سے زید نے ایک سور و پیہ لینا ہو تو اسے یہ حق خدا نے بھی اور رسول نے بھی ، اخلاق