انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 493
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۹۳ سورة ال عمران نہیں، ہمارے اوپر کوئی پابندیاں نہیں، گناہوں سے بچنے کے لئے ہم نے کوئی کوشش نہیں کرنی۔نیکیاں کرنے کے لئے ہم نے ہر قسم کی جدو جہد اور سعی نہیں کرنی۔یہ خیال غلط ہے۔اصولی طور پر خدا تعالیٰ نے جو لِقَومٍ يُؤْمِنُون مؤمن قوم کو جو بشارت دی وہ بڑی زبردست ہے وَانْتُمُ الأعلون ہر شعبہ زندگی میں فوقیت تمہیں حاصل ہوگی۔اعلیٰ کا لفظ بولا ہے نا۔ہر شعبہ زندگی میں فوقیت تمہیں حاصل ہوگی یہ بشارت ہے مگر اس کے ساتھ میں نے قرآن کریم پر بڑا غور کیا ہر بشارت کے ساتھ انذاری پہلو ساتھ لگا ہوا ہے۔اس کے ساتھ ایک اندار ہے۔إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ اگر تم ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا نہیں کرو گے تو یہ بشارت تمہارے حق میں پوری نہیں ہو گی۔الا غلون والی اور تیرہ چودہ سو سالہ اسلامی زندگی میں جو مسلمان ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی آپ تاریخ دیکھیں اس کے دونوں پہلوانذار کے بھی اور تبشیر کے بھی بڑے زبردست طریقے پر پورے ہوئے۔ایمان کے تقاضے جہاں بھی پورے کئے گئے، فوقیت بشارت کے مطابق لِقَومٍ يُؤْمِنُونَ انہی کو حاصل ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی وہ تو اس زمانے کا تو ہر لمحہ اس کی تائید کر رہا ہے کیونکہ آپ کی تربیت میں صحابہ رضی اللہ عنہم تھے وہ تقاضوں کو پورا کر رہے تھے ایمان کے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قیادت کر رہے تھے۔ہر وقت ان کی رہنمائی تھی۔جس وقت انتہائی دکھوں کی زندگی تھی ان دکھوں میں سے کامیاب نکلے۔تیرہ سالہ زندگی کے دکھ اٹھا کے پھر چند سال میں سارے عرب پر غالب آ جانا یہ کوئی معمولی معجزہ نہیں ہے۔ایسا معجزہ ہے جس کی مثال دنیا آجانا میں نہیں ملتی کہ کسی قوم کو تیرہ سال تک اس طرح پیسا گیا ہو کی زندگی میں اور آٹھ سال تک حملہ آور ہو کر اس طرح کوشش کی گئی ہو ان کو نیست و نابود کرنے کی اور پھر میں سالہ اس ظالمانہ کوشش کا نتیجہ اسلام کی موت نہیں بلکہ مسلمان کی زندگی کی شکل میں ظاہر ہوا۔پھر ہم صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ لیتے ہیں۔چھوٹی سی قوم ہے۔غیر مہذب ہے۔طاقت ان کے پاس کوئی نہیں۔ہتھیار ان کے پاس اچھا نہیں۔تجربہ کار یہ نہیں ہیں جنگ کے میدان میں اور مال و دولت ان کے پاس نہیں ہے پھر ہم کسریٰ کا یہ غرور دیکھتے ہیں۔ساری دنیا کے خزانے لوٹے ہوئے تھے۔اتنے ہیرے جواہرات تھے کہ ہمارے جرنیلوں کو تو شاید بیس روپے کی ٹوپی ملتی ہوگی پہنے کو اور ان کے کور کمانڈر ایک لاکھ کے ہیرے جڑے ہوتے تھے اس کی ٹوپی میں۔یہ اس کا حکم تھا کہ ایک